فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 434

فضائل القرآن — Page 142

فصائل القرآن نمبر۔۔۔142 اس کا یہ فعل اچھا نہ تھا۔اس لئے اس کا یہ فعل حقیقی ناشکری تو نہیں لیکن اس کے مشابہ ضرور ہے۔پھر تھوڑی چیز کو ٹیچوں میں اس طرح بانٹ دینے کو کہ کسی کے بھی کام نہ آئے اللہ تعالیٰ نے ناشکری قرار دینے کی یہ وجہ بتائی کہ ہم نے جو نعمت دی تھی وہ کسی غرض کے لئے ہی دی تھی مگر تم نے اس کو بے فائدہ طور پر بانٹ دیا اور اس طرح اس غرض کو باطل کر دیا۔وہ غرض یہی ہے کہ مال قابلیت رکھنے والوں کے پاس آتا ہے اور قابلیت رکھنے والوں کو کام کرنے کے قابل بنائے رکھنا قوم کے لئے ضروری ہوتا ہے۔اگر ایک اعلیٰ درجہ کا کاریگر ہو اور وہ اپنے اوزار دوسروں میں بانٹ دے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کا اپنا کام بھی نہ چلے گا اور دوسروں کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا لیکن اگر وہ اپنے اوزار اپنے پاس رکھ کر ان سے کام کرے اور پھر جو کچھ کمائے اس میں سے دوسروں کی مدد کرے تو یہ بہت مفید بات ہوگی۔صدقہ دینے کا صحیح طریق پھر اسلام نے صدقہ دینے کا طریق بتایا ہے جو یہ ہے کہ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِالْيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَ عَلَانِيَةً م یعنی مومن وہ ہیں جو اپنے اموال رات اور دن اور پوشیدہ اور ظاہر اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں۔اس آیت میں یہ احکام بیان کئے گئے کہ اول پوشیده صدقہ دو۔دوم علانیہ صدقہ دو۔یہاں مال کے طریق تقسیم میں انجیل کی تعلیم کا مقابلہ ہوگیا۔انجیل میں تو یہ کہا گیا ہے کہ: - "جب تو خیرات کرے تو جو تیرا داہنا ہاتھ کرتا ہے اسے تیرا بایاں ہاتھ نہ جانے تاکہ تیری خیرات پوشیدہ رہے۔“ لیکن قرآن کہتا ہے کہ کبھی اس طرح صدقہ دو کہ دائیں ہاتھ سے دو تو بائیں کو پتہ نہ لگے اور کبھی اس طرح دو کہ سب کو پتہ لگے۔اور اس کی وجہ بتائی کہ کیوں ہم یہ کہتے ہیں کہ ظاہر طور پر بھی صدقہ دو اور پوشیدہ طور پر بھی۔فرمایا ان تُبْدُوا الصَّدَقَتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيَاتِكُمْ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرات یعنی اگر تم صدقہ دکھا کر دو تو یہ بڑی اچھی بات ہے لیکن وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ