فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 434

فضائل القرآن — Page 143

فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔143 خير لكم اگر تم چھپا کر دو تو یہ تمہارے اپنے لئے بہتر ہے۔گویا دوسرے طریق صدقہ میں پہلے طریق کی بھی وجہ بتادی کیونکہ جب یہ بتایا کہ پوشیدہ طور پر صدقہ دو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہو گا تو یہ بھی فرمایا کہ اگر ظاہری طور پر صدقہ دو گے تو یہ دوسروں کے لئے بہتر ہوگا کیونکہ جب لوگ کسی کو صدقہ دیتے دیکھیں گے تو کہیں گے یہ بڑا اچھا کام ہے اور پھر وہ خود بھی اس کی نقل کرنے لگ جائیں گے۔دیکھو جولوگ یورپ کے دلدادہ ہیں وہ سر سے پیر تک وہی لباس پہنتے ہیں جو یورپین لوگوں کا ہے۔ایک زمانہ میں جب ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت تھی تو ہندو بھی مسلمانوں کی طرح جیتے پہنے پھرتے تھے۔اب بھی جن علاقوں میں مسلمانوں کی کثرت ہے وہاں کے ہندوؤں کا لباس مسلمانوں جیسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ سرحد میں یا سندھ میں ہے۔ایک دفعہ ایک سندھی تاجر ہمارا ہم سفر تھا۔اس نے بالکل مسلمانوں جیسا لباس پہنا ہوا تھا۔میں اسے مسلمان ہی سمجھتا رہا۔جب کھانا کھانے لگے تو ہمارے نانا جان بھی ساتھ تھے۔انہوں نے اس تاجر کو کہا کہ آئیے آپ بھی کھانا کھائیں۔مگر اس نے نہ کھایا۔جب وہ اُترنے لگا تو اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو مسلمانوں کے ساتھ کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے مگر دوسرے لوگ بُرا مناتے ہیں۔تب پتہ لگا کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ ہندو تھا۔تو دوسروں کو دیکھ کر انسان ان کی باتیں اختیار کر لیتا ہے۔رسول کریم ملی شما سلم نے فرمایا کہ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ " تم میں سے ہر ایک کی مثال گڈریا کی سی ہے۔ہر ایک کے ساتھ کچھ نہ کچھ بھیڑریں لگی ہوئی ہیں جو اس کی نقل کرتی ہیں۔پس اگر کوئی ظاہری طور پر صدقہ دے گا تو اس کے بیٹے ، بھائی یا دوسرے رشتہ دار، مرید ، ملازم ، دوست اور آشنا بھی اس کی نقل میں صدقہ دیں گے۔دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ آئندہ نسل کو اس سے فائدہ پہنچے گا۔بچوں کو صدقہ دینے کی عادت پڑے گی۔جب وہ اپنے بڑوں کو دیکھیں گے کہ وہ صدقہ دیتے ہیں تو سمجھیں گے کہ یہ اچھی بات ہے اور خود بھی صدقہ دینے لگ جائیں گے اس طرح آہستہ آہستہ ان کی تربیت ہوتی جائے گی۔تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ بعض دفعہ لوگوں کو پتہ نہیں ہوتا کہ فلاں شخص امداد کا محتاج ہے۔ہوسکتا ہے کہ مجھے اپنے محلہ یا اپنے قصبہ یا اپنے شہر کے کسی آدمی کے متعلق پتہ ہو کہ وہ محتاج ہے لیکن دوسروں کو پتہ نہ ہو۔ایسی صورت میں اگر میں ایک دوست کو کچھ دوں کہ فلاں کو دے دینا تو بغیر یہ