فضائل القرآن — Page 125
فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ 125 ہے۔دنیا الہام کی منکر ہو چکی تھی۔حضرت مرزا صاحب اسے یہ مسئلہ منوانا چاہتے تھے۔دنیامذہب کو چھوڑ چکی تھی۔آپ مذہب کی پابندی کرانے کے لئے آئے۔پھر آپ کا اور گاندھی جی کا کیا مقابلہ۔ابھی دیکھ لو۔میرے مضامین چونکہ عام لوگوں کی خواہشات کے خلاف ہوتے ہیں اس لئے دوسرے اخبارات میں نہیں چھپتے لیکن ابھی میں انگریزوں کے خلاف وہی روش اختیار کر لوں جو دوسرے لوگوں نے اختیار کر رکھی ہے تو تمام اخبارات میں شور مچ جائے کہ خلیفہ صاحب نے یہ بات کہی ہے جو بڑے عقلمند اور محب وطن ہیں لیکن چونکہ ان کے منشاء کے مطابق اور ان کی خواہشات کے ماتحت ہمارے مضامین نہیں ہوتے اس لئے خواہ ان میں کیسی ہی پختہ اور مدلل باتیں ہوں انہیں شائع نہیں کرتے۔سوال کرنے والے دوست نے شاید اس پور بی عورت کا قصہ نہیں سنا جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب اس کا خاوند مر گیا تو وہ یہ کہہ کر رونے لگی کہ اس کا اتنا قرضہ فلاں فلاں کے ذمہ ہے وہ کون وصول کرے گا۔اس کے رشتہ کے مردوں میں سے ایک نے اکثر کر کہا اری ہم ری ہم۔اسی طرح وہ وصولیاں گنائی گئی اور وہ کہتا چلا گیا۔اری ہم ری ہم لیکن جب اس نے کہا کہ اس نے فلاں کا اتنا قرض دینا ہے وہ کون دے گا۔تو کہنے لگا۔”ارے میں ہی بولتا جاؤں یا کوئی اور بھی بولے گا۔“ اسی طرح گاندھی جی تو وصولیوں کی بات کہہ رہے ہیں اور سارا ہندوستان ان کی آواز پر کہتا جاتا ہے۔ہم ری ہم لیکن حضرت مرزا صاحب نے جو کچھ کہا اس پر اپنے پاس سے دینا پڑتا ہے۔اس لئے اس آواز پر لوگ کہنے لگ جاتے ہیں کہ ارے ہم ہی بولیں یا کوئی اور بھی بولے گا۔کہا گیا ہے کہ گاندھی جی کے کارنامے دنیا کو ان کی طرف متوجہ کر رہے ہیں اور حکومت ان کے نام سے کانپ رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت گاندھی جی سے نہیں بلکہ ہندوستان سے کانپ رہی ہے۔وہ یہ دیکھ رہی ہے کہ ۳۳ کروڑ کی آبادی پر چند لاکھ افراد کی حکومت کس قدر مشکل ہے۔انگریز اس بات سے ڈر رہا ہے نہ کہ گاندھی جی سے سفارشات -☑ سوالات کے جواب دینے کے بعد اب ایک تو میں سفارش بچوں کے متعلق کرتا ہوں۔جامعہ احمد یہ اور ہائی سکول کے طلباء نے اپنے اپنے رسالوں کے سالنامے نکالے ہیں۔چونکہ ملک میں