فضائل القرآن — Page 75
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 75 کرنے پر مجبور ہوتے ہیں مگر یہاں ایسا نہیں کیا گیا۔یہ آیتیں اس زمانہ کے متعلق ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ شعر ہیں۔وزن قائم رکھنے کے لئے ان میں توازن کوملحوظ رکھا گیا ہے اور متقی عبارت ہے مگر ترتیب خراب نہیں ہوئی۔نہ کوئی زائد چیز آئی ہے، ہر ایک اپنی اپنی جگہ پر ہے۔سورۃ جمعہ کی ابتدائی آیات کی تفسیر خدا تعالیٰ فرماتا ہے يُسَبِّحُ لِلهِ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ہر ایک چیز خواہ وہ آسمانوں میں ہے خواہ زمین میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے۔یعنی ہر چیز ثابت کرتی ہے کہ خدا ہے عیب ہے۔اَلْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيم۔وہ ملک ہے، قدوس ہے، عزیز ہے، حکیم ہے۔یہاں قافیہ کے لحاظ سے حکیم پیچھے آیا ہے۔اگر ملک پیچھے آتا تو وزن قائم نہ رہتا۔آگے اسی ترتیب سے مضمون چلتا ہے۔پہلی صفت خدا تعالیٰ کی یہ بیان کی تھی کہ وہ الملک یعنی بادشاہ ہے۔اور بادشاہ کا یہ کام ہوتا ہے کہ رعایا کی بہتری اور بہبودی کے احکام جاری کرے۔اس لئے فرمایا هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّثِينَ رَسُولًا مِنْهُمْ - جب خدا تعالی ساری دنیا کا بادشاہ ہے تو اس نے اپنی رعایا کو احکام پہنچانے کے لئے امیین میں ایک رسول بھیجا اور اپنا نائب مقرر کیا مگر یہ نائب باہر سے مقرر نہیں کیا بلکہ تم میں سے ہی بھیجا۔دوسری صفت یہ بیان کی تھی کہ وہ القدوس ہے اس کے متعلق فرمایا يَتْلُوا عَلَيْهِم آیتِه ويز کنیم وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہر ایک چیز پاکیزہ ہو اس لئے اس نے رسول کو اپنی آیات دے کر بھیجا تا کہ وہ آیات لوگوں کو سنائے اور ان میں دماغی اور روحانی پاکیزگی پیدا کرے۔پہلے اللہ تعالیٰ کی آیات سکھا کر انسانی دماغ کو پاک کرے اور پھر یز سیم ان کے اعمال کو پاک کرے۔تیسری صفت یہ بیان کی تھی کہ العزیز وہ غالب ہے۔اس کے لئے فرمایا۔وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب۔ان کو کتاب سکھائے۔یہ سیدھی بات ہے کہ کوئی بات وہی سکھا سکتا ہے جس کے شاگرد ہوں۔چونکہ عزیز کے معنی غالب کے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے مقابلہ میں یہ رکھا کہ اس