فضائل القرآن — Page 76
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ رسول کو ہم ایک جماعت دیں گے جسے یہ سکھائے گا اور اسے دنیا پر غلبہ بخشے گا کیونکہ میں اسے اپنی صفت عزیز کے ماتحت بھیج رہا ہوں۔چوتھی صفت اتحکیم بیان کی تھی۔اس کے متعلق فرمایا وَ الحِكْبَة کہ وہ حکمت سکھائے گا۔وَإِن كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِيْنٍ اور گو اس سے پہلے وہ لوگ کھلی گمراہی میں تھے مگر پھر بھی یہ رسول اس کتاب کو منوالے گا۔اس کے بعد فرمایا وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِہم۔یہ رسول کچھ اور لوگوں کو بھی سکھائے گا جو ابھی ان سے نہیں لے۔وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَکیم اور وہ غالب اور حکمت والا ہے۔ممکن ہے کوئی کہے کہ قرآن کی عبارت تو مقفی بتائی جاتی ہے لیکن یہ ترتیب کیسی ہے کہ انہیں الفاظ کو پھر ڈ ہرا دیا گیا ہے جو پہلے آچکے ہیں اور بغیر ضرورت کے صرف قافیہ بندی کے لئے لائے گئے ہیں۔لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو سکتا ہے کہ یہی الفاظ آنے چاہئیں تھے۔اس کی وجہ ہے کہ جب کہا گیا وَ اخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهمْ که یه رسول ایک اور جماعت کو بھی سکھائے گا جو ان لوگوں سے نہیں ملی تو گو یا بتا یا کہ ان لوگوں میں اور اس جماعت میں ایک وقفہ ہوگا۔اور دوسرے لوگ کچھ مدت کے بعد آئیں گے۔اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک عرصہ گذرنے کے بعد مسلمانوں میں سے قرآن مٹ جائے گا اور پھر بعد میں آنے والوں کو سکھایا جائے گا۔ورنہ اگر وقفہ نہیں پڑنا تھا تو یہ بات بیان کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔پیچھے آنے والے آخر پہلوں سے ہی سیکھا کرتے ہیں۔اس کے ذکر کی یہی وجہ ہے کہ ایک زمانہ ایسا آنے والا تھا جس میں قرآن دانی مٹ جانی تھی۔اور پھر محمد رسول اللہ صلی نیلم کے ذریعہ دنیا کو قرآن سکھایا جانے والا تھا۔اب یہ صاف بات ہے کہ درمیانی وقفہ کسی نقص کی وجہ سے ہی ہو سکتا ہے۔اور اس نقص کے ازالہ سے ہی اس امر کو دوبارہ قائم کیا جاسکتا ہے۔پس دوبارہ عزیز وحَکیم کہہ کر بتایا کہ یہ وقفہ دشمنان اسلام کے غلبہ ظاہری اور ان کی علمی اور فلسفی اور سائنس کی ترقی کی وجہ سے ہوگا۔اور مسلمان ان سے متاثر ہو کر قرآن کو چھوڑ دیں گے۔مگر پھر خدا تعالیٰ ان کو غلبہ عطا فرمائے گا کیونکہ وہ عزیز ہے۔چونکہ دوسروں کو حکومت ملنی تھی اور اس سے مسلمانوں پر رُعب چھا جانا تھا اور ایسے علوم نکل آنے تھے جن کی وجہ سے اسلام پر حملہ کیا جاتا اس لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اس وقت بھی 76