فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 434

فضائل القرآن — Page 72

72 فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ Moreover in confusion is there serial arrangement, a confusion which has been deplored through- out centuries۔یعنی بائیبل میں ترتیب واقعات کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔پس اس کے بیانات کے بارہ میں جب کوئی جھگڑا پیدا ہو اور سلجھاؤ کی کوئی صورت دکھائی نہ دے تو اسے چھوڑ دینا چاہئے۔ایل لڈوگ (Emil Ludwidg) نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں وہ بیان کرتا ہے کہ موجودہ انجیل ہمیں بالکل بے ترتیب نظر آتی ہے۔وہ اپنی کتاب ”ابن آدم میں اس پر بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ انجیل میں ہمیں جو بھی تضاد نظر آتا ہے وہ واقعات کے بے ترتیبی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔انا جبیل جو ہمارے علم کے چار بڑے چشمے ہیں کئی امور میں ایک دوسرے کے مخالف بیانات کی حامل ہیں اور غیر عیسائی محققین نے بھی انہیں متضاد قرار دیا ہے، اس کے علاوہ ان کی ترتیب میں اس قدر الجھنیں ہیں کہ صدیوں سے خود مسیحی اس پر افسوس کا اظہار کرتے چلے آرہے اسی طرح ویدوں کو پڑھا جائے تو وہاں بھی ترتیب کا کچھ پتہ نہیں لگتا اور یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ ایک واقعہ کا دوسرے واقعہ سے کیا جوڑ ہے۔مختصر آیات میں حقائق ومعارف کی کثرت تیسری خوبی جو قرآن کریم کے ظاہری حسن کو نمایاں کرتی ہے وہ اس کے مضامین کا باوجود اختصار کے مفصل ہونا ہے۔چنانچہ ایک ایک آیت کئی کئی مطالب بیان کرتی چلی جاتی ہے۔اور پھر اس میں علم کلام، علم تاریخ علم اوامر اور علم نواہی سب ایک ہی وقت میں کام کر رہے ہوتے ہیں اور آئندہ کے لئے پیشگوئیاں بھی ہوتی ہیں۔اس خوبی کی وجہ سے ایک طرف تو قرآن کریم نہایت مختصر ہے اور دوسری طرف جو اس میں عظیم الشان مطالب بیان ہیں وہ بائیبل اور دوسری الہامی کتب میں مل ہی نہیں سکتے۔اس کی ایک مثال میں نے ابھی دی ہے کہ ایک چھوٹی سی آیت میں تین عظیم الشان پیشگوئیاں بیان کی گئی ہیں لیکن اس کے علاوہ قرآن کریم کا کوئی مقام لے لو یہ بات واضح ہو جائے