فضائل القرآن — Page 67
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 67 عیسائیت کو نہیں مانتا۔لیکن پھر ایک وقت مان لیتا ہے تو کیا وہ لالچ سے ایمان لاتا ہے؟ یہ ایک طبعی بات ہے کہ انسان بعض اوقات ایک بات کا انکار کر دیتا ہے لیکن جب اس پر صداقت کھلتی ہے تو اسے مان لیتا ہے۔ایسا ہر مذہب میں ہوتا ہے۔کئی لوگ ہندو ہو جاتے ہیں۔اب کیا انہیں کہا جاتا ہے کہ اتنے سال تو تم ہندو مذہب کا ذکر سنتے رہے اور ہندو نہ ہوئے؟ اب جو ہندو ہوئے ہو تو کسی لالچ کی وجہ سے ہوئے ہو؟ دراصل یہ بہت بودی دلیل ہے اور سوائے اس کے جو خود لالچی ہو اور کوئی پیش نہیں کر سکتا۔یوں تو دنیا میں بڑی اچھی اچھی کتابیں لکھی جاتی ہیں اور ان کی قبولیت بھی ہوتی ہے۔مگر دیکھنا یہ چاہئے کہ کیا کوئی ایسی کتاب لکھی گئی ہے جس کے لکھنے والے نے پہلے ہی یہ اعلان کر دیا ہو کہ یہ سب سے افضل اور اعلیٰ ہوگی اور اس کی قبولیت لوگوں میں پھیل جائے گی۔یوروپین لوگ کہتے ہیں شیکسپیئر جیسا کلام کوئی نہیں لکھ سکتا۔گو خدا کی قدرت ہے جب سے قرآن پر یوروپین اعتراض کرنے لگے ہیں ایسی سوسائٹیاں بھی بن گئی ہیں جو شیکسپیئر کی تحریروں پر اعتراض کرتی ہیں۔لیکن اگر مان بھی لیا جائے کہ وہ اچھا لکھنے والا تھا تو دیکھنا یہ چاہئے کہ کیا لکھتے وقت اس نے کہا تھا کہ اس کا کلام تمام کلاموں سے افضل رہے گا۔اس نے یقینا ایسا نہیں کہا۔مگر قرآن نے پہلے ہی کہ دیا تھا کہ اس کتاب کا مقابلہ کرنے سے دنیا عاجز رہے گی۔میں نے بینٹ کی ایک کتاب پڑھی ہے جس میں اس نے لکھا ہے کہ جب میں نے یہ کتاب لکھی تو سمجھا کہ بہت مقبول ہوگی مگر چھاپنے والوں نے اس کی اشاعت میں لیت و لعل کیا اور پبلک نے بھی قدر نہ کی۔پس کوئی لکھنے والا نہیں جانتا کہ اس کی کتاب مقبول ہوگی یا نہیں۔مگر قرآن نے پہلے سے کہ دیا تھا کہ یہ کتاب تمام کتب سے افضل ہے اور ہمیشہ افضل رہے گی۔پھر عرب وہ ملک تھا جس کا تمام کمال زبان دانی پر تھا۔اس ملک میں قرآن آیا اور ان لوگوں کی زبان میں آیا۔اور پھر اس نے ایسا تغیر پیدا کر دیا کہ عربوں کا طرز کلام ہی بدل ڈالا اور انہوں نے قرآن کی طرز اختیار کر لی۔ان کی طرز تحریر بدل گئی۔پرانا سٹائل جاتا رہا اور قرآن کریم کے سٹائل پر ہی سب چلنے لگے۔بعض لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ قرآن کریم کو ماننے والوں نے ایسا کرنا ہی تھا۔میں کہتا