فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 434

فضائل القرآن — Page 63

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ بعث بعد الموت کی حقیقت دسویں آپ نے بعث بعد الموت کی حقیقت ثابت کی۔دوزخ کا کیا نقشہ ہوگا۔کون لوگ اس میں جائیں گے، کیا کیا تکالیف ہونگی۔اسی طرح یہ کہ جنت میں کون لوگ ہونگے ، اس کی لذات کیسی ہونگی ، جنت دائی ہوگی یا نہیں۔غرض ساری باتیں بیان کر دیں۔اس وقت میں ان انکشافات کی مثالیں پیش نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں میں پڑھی جاسکتی ہیں۔بالخصوص اسلامی اصول کی فلاسفی اور میری کتاب ”احمدیت میں ان کا ذکر ہے۔مطہر کی تعریف 63 یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ میں مُطھر کا لفظ استعمال ہوا ہے نہ کہ ظاھر کا لفظ۔اس کی وجہ یہ کہ طاھر وہ شخص ہوتا ہے جو زہد و ورع سے ایک پاکیزگی حاصل کر لیتا ہے اور مطھر وہ ہوتا ہے جو کسی اندرونی نسبت سے اللہ تعالیٰ کی طرف کھینچا جاتا ہے اور مطھر کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے قول یا فعل سے ہی ہوتا ہے نہ کہ اس کے کسی عمل یا لوگوں کے کہنے سے۔چنانچہ دیکھ لو وہ لوگ جنہوں نے قرآن کریم کی صحیح تفاسیر لکھیں وہ وہی لوگ تھے جو خدا تعالیٰ کے الہام اور اس کے قرب سے مشرف تھے اور خدا تعالیٰ کی نصرت ان کے شامل حال تھی۔ایک سوال کا جواب یہاں ایک سوال ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ دلائل سے تو یہ ثابت ہو گیا کہ قرآن کریم دوسری انسانی کتابوں سے منبع کے لحاظ سے فضیلت رکھتا ہے مگر یہ کیونکر ثابت ہوا کہ دوسری الہامی کتابوں سے بھی افضل ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ الہامی کتب سے بھی قرآن کریم افضل ہے اس لئے کہ گو وہ کتب اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھیں لیکن بعض صفات کا ظہور ان کے زمانہ میں نہ ہوا تھا۔مثلاً ایک زمانہ میں اگر خیانت زیادہ پھیلی ہوئی تھی تو اس زمانہ کے نبی پر اس بدی کو دور کرنے کی صفت ظاہر ہوئی۔اگر لوگوں میں خشونت اور سختی زیادہ پائی جاتی تھی تو اس زمانہ کے نبی پر رحم اور محبت اور نرمی اور شفقت کی