فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 434

فضائل القرآن — Page 51

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 51 دلیل یہ بیان کی کہ أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِن رَّبِّهِہ کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک بينة یعنی روشن دلیل پر قائم ہو وہ جھوٹا ہو سکتا ہے یا وہ تباہ ہوسکتا ہے۔یہاں مین میں رسول کریم سلیم اور صحابہ کرام کا ذکر ہے۔جیسا کہ آگے آتا ہے اُولئِكَ يُؤْمِنُونَ ہے۔پس فرمایا کیا یہ لوگ تمہارے خیال کے مطابق تباہ و برباد ہو جائیں یا نقصان اُٹھا ئیں گے یہ تو ایسی کتاب کو ماننے والے ہیں جو بينة ہے یعنی اس میں الہامی دلائل ہیں جو مدلول علیہ کے دعوی کی صحت کو بیان کرتے ہیں۔آیت اور بینۃ میں فرق آیت اور بيّنة میں یہ فرق ہے کہ آیت وہ ہوتی ہے جس سے ہم خود نتیجہ نکالیں۔اور بينة وہ ہوتی ہے جو اپنی دلیل آپ پیش کرے۔جیسے ایک درخت کو ہم دیکھتے ہیں کہ اسے کسی صانع نے بنایا ہے یہ آیت ہے۔لیکن ایک نبی آتا ہے اور آ کر کہتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے آیا ہوں یہ بینة ہے۔تو آیت عام لفظ ہے اور بينة خاص۔اس سے مراد وہ دلیل ہوتی ہے جو اپنے لئے آپ شاہد ہوتی ہے۔قرآن کریم کے بینة ہونے کا ثبوت اب سوال یہ ہے کہ قرآن کریم کس طرح بينة ہے؟ یہ بھی تو دعوی ہی ہے کہ قرآن بينة ہے۔اس کے لئے میں کہیں دور نہیں جاتا۔قرآن کریم کے بینة ہونے کا ثبوت اس پہلی وجی میں ہی موجود ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔باقی کتابیں دوسروں کی دلیلوں کی محتاج ہوتی ہیں مگر قرآن اپنے دعوئی کی آپ دلیل دیتا ہے۔اور قرآن کے بینة ہونے کی دلیل ان تین آیتوں میں موجود ہے جو پہلے پہل نازل ہوئیں۔قرآن کریم کا یہ کمال دکھانے کے لئے میں نے سب سے پہلی وحی قرآنی کو ہی لیا ہے۔سب سے پہلی وحی غار حرا میں نازل ہوئی تھی جب جبرائیل رسول کریم سینی ایتم کو نظر آیا اور اس نے کہا۔اقرا یعنی پڑھ۔اس کے جواب میں رسول کریم ملایا تم نے فرمایا ما انا بقارئ میں پڑھنا نہیں جانتا۔مطلب یہ تھا کہ یہ بوجھ مجھے