فضائل القرآن — Page 47
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ كَانُوا عَنْهُ مُعْرِضِینَ یعنی رخمن خدا کی طرف سے کبھی کوئی نیاذ کر نہیں آتا کہ جس سے لوگ اعراض نہ کرتے ہوں۔چونکہ انبیاء کا کلام ضرور کسی نئی شئے کو لے کر آتا ہے۔یعنی وہ حسب ضرورت آتا ہے خواہ شریعت لائے خواہ فہم لائے، خواہ ایمان کی تجدید کے سامان لائے ، اس لئے اسے حدیث کہتے ہیں اور قرآن کریم اَحْسَنَ الْحَدِیثِ ہے یعنی جنس حدیث میں یا دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ کلام الہی میں سب سے افضل ہے۔غرض اللہ تعالی فرماتا ہے اللهُ نَزِّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتبا۔یہ کتاب جو نازل کی گئی ہے ان تمام کتابوں سے جو اس سے پہلے نازل ہوئیں بڑھی ہوئی ہے۔پس قرآن کریم سے ہمیں اس کی افضلیت کا دعوی ملتا ہے۔پھر قرآن کریم کی افضلیت کا دعوی اس آیت میں بھی موجود ہے کہ مَانَنْسَخُ مِنْ آيَةٍ أوْنُنْسِهَا تَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيءٍ قَدِير فرماتا ہے۔ہم کوئی کلام الہی منسوخ نہیں کرتے یا فراموش نہیں کراتے جب تک کہ اس سے بہتر یا اس جیسا کلام نہ لائیں۔یعنی جسے منسوخ کرتے ہیں اس سے بہتر لاتے ہیں اور جو بھول چکا ہوتا ہے مگر عمل کے قابل ہوتا ہے اسے ویسا ہی لے آتے ہیں۔آلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيئ قدیر اے مخاطب ! تجھے یہ کیوں عجیب بات معلوم ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ جو چاہتا ہے کر سکتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔تو رات میں ایک نئی شریعت نازل ہونے کی پیشگوئی جب قرآن کریم پہلی الہامی کتب کا ناسخ ہے تو ضروری تھا کہ وہ کچھ تعلیم تو ان تعلیموں سے بہتر لائے اور کچھ وہ لائے جو مٹ گئی ہو۔جب میں نے اس پہلو سے غور کیا تو قرآن کریم کے اس دعوئی کی تصدیق دوسری کتابوں سے بھی معلوم ہوئی۔چنانچہ بائیبل میں آتا ہے۔د میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی بر پا کروں گا اور اپنا کلام اس کے مونہہ میں ڈالوں گا۔اور جو کچھ میں اسے فرما ؤ نگاوہ سب ان سے کہے گا۔سکے اس میں یہ خبر دی گئی تھی کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا جب موسیٰ علیہ السلام جیسا نبی مبعوث ہو گا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام چونکہ صاحب شریعت نبی تھے اس لئے ان جیسے نبی کے آنے کے لازما یہ 47