فضائل القرآن — Page 48
فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ 48 معنی تھے کہ وہ بھی صاحب شریعت ہوگا۔پھر جب وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد آئے گا تو معلوم ہوا کہ جو کتاب وہ لائے گا اس میں بعض باتیں زائد بھی ہونگی جو بائکھیل میں موجود نہ ہونگی ، ور نہ نئی شریعت کے آنے کی کیا ضرورت تھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت منسوخ کرنے میں کیا حکمت تھی۔لیکن جب وہ منسوخ کی گئی تو ضروری تھا کہ آنے والی شریعت اس سے افضل ہو۔پس قرآن کریم کی افضلیت بائیبل کے اس حوالہ سے بھی ثابت ہے کیونکہ شریعت جدیدہ ناسخہ عقلاً شریعت منسوخہ سے حقیقی طور پر یا نسبتی طور پر افضل ہونی چاہئے۔حضرت موسی کی پیشگوئی کے مصداق ہونے کا دعویٰ ممکن ہے کوئی کہے کہ قرآن کریم کب کہتا ہے کہ میں وہی کتاب ہوں جس کا وعدہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا تھا۔سو اس کا جواب بھی قرآن کریم میں موجود ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے انا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا يعنى اے لوگو! ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے شاهِدًا عَلَيْكُمُ جو تم پر شاہد اور گواہ ہے كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا اور وہ اسی قسم کا رسول ہے جس قسم کا رسول موسی تھا جسے فرعون کی طرف بھیجا گیا۔اس آیت میں رسول کریم صلی سیا ستم کے متعلق استثنا باب ۱۸ آیت ۱۸ کے مصداق ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ ایک اور طرح بھی اس بات کا ثبوت ملتا ہے۔اور وہ یہ کہ استثنا باب ۱۸ کی آیت ۱۸ حضرت مسیح پر چسپاں نہیں ہوتی بلکہ وہ خود بھی کہتے ہیں کہ میں اس کا مصداق نہیں۔انجیل میں آتا ہے، حضرت مسیح کہتے ہیں۔” مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنی ہیں مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا۔پس انجیل سے بھی ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب میں جس آنے والے کی پیشگوئی ہے وہ حضرت مسیح پر چسپاں نہیں ہوتی بلکہ اس کا مصداق کوئی اور ہے۔پھر حضرت مسیح صرف بنی اسرائیل کے لئے آئے تھے۔مگر وہ جس کی نسبت حضرت موسی نے پیشگوئی کی وہ ساری دنیا کے