فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 434

فضائل القرآن — Page 38

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ فضیلت اور اکملیت ثابت کرنے کے لئے یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ہم اس کے مضامین پر غور کریں اور اس طرح اس کی کوئی خوبی معلوم کریں بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ کسی چیز کو دوسری چیز پر فضیلت کیوں حاصل ہوتی ہے۔پھر یہ دیکھنا چاہئے کہ جو فضیلت کے معیار ہیں اور جن کی وجہ سے کسی کو فضیلت دی جاتی ہے وہ کس قدر قرآن میں پائے جاتے ہیں۔قرآنی فضیلت کے چھبیس (۲۶) وجوہ 38 جب میں نے اس رنگ میں غور کیا تو قرآن کریم کا سمندر میری آنکھوں کے سامنے آ گیا اور مجھے معلوم ہوا کہ ہر فضیلت کے وجہ جو دنیا میں پائی جاتی ہے اور جس کی بناء پر ایک چیز کو دوسری چیز پر فضیلت دی جاتی ہے وہ بدرجہ اتم قرآن کریم میں پائی جاتی ہے اور فضیلت دینے والی خوبیوں کے سارے رنگ قرآن کریم میں موجود ہیں۔میں نے اس وقت سرسری نگاہ سے دیکھا تو قرآن کریم کی فضیلت کی چھپیں وجوہات میرے ذہن میں آئیں۔بالکل ممکن ہے کہ یہ وجوہات اس سے بہت بڑھ کر ہوں اور میں پھر غور کروں یا کوئی اور غور کرے تو اور وجوہات بھی نکل آئیں۔مگر جتنی وجوہات اس وقت میرے ذہن میں آئیں، ان میں میں نے قرآن کریم کو تمام کتب سے افضل پایا۔منبع کی افضلیت (1) پہلی وجہ کسی چیز کے افضل ہونے کی اس کے منبع کی افضلیت ہوتی ہے۔جیسے گورنمنٹ کی ملازمت میں باپ نے جو گورنمنٹ کی خدمات کی ہوتی ہیں ان کا لحاظ رکھا جاتا ہے اور ایک دوسرے شخص کو جو تعلیم اور قابلیت کے لحاظ سے بالکل مساوی ہوتا ہے اس پر ایسے شخص کو ترجیح دے دی جاتی ہے جس کے باپ داد نے گورنمنٹ کی خدمات کی ہوتی ہیں۔یہ نع کے لحاظ سے فضیلت ہوتی ہے۔اسی طرح ایک شخص جو امیر باپ کے گھر پیدا ہوتا ہے وہ امارت اپنے ساتھ لاتا ہے اور اسے یہ خوبی منبع کے لحاظ سے حاصل ہوتی ہے۔میں نے قرآن کریم کو اس فضیلت کے لحاظ سے بھی دوسری کتب سے افضل پایا۔