فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 434

فضائل القرآن — Page 34

فصائل القرآن نمبر ۲۰۰۰ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللهِ وَإِقَامِ الصَّلوةِ وَإِيتَاءِ الزكوة يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيْهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ لِيَجْزِيَهُمُ اللهُ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاءُ بِغَيْرِ حساب ها اس کے بعد فرمایا: اسلام کا مغز اور اس کی جان یہ مضمون جس کے متعلق میں اس وقت کچھ بیان کرنے لگا ہوں نہایت ہی اہمیت رکھتا ہے۔اور در حقیقت یہ اسلام کا مغز اور اس کی جان ہے۔اور دوستوں کا فرض ہے کہ وہ اسے پورے غور اور توجہ کے ساتھ سنیں اور اس سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں۔یہ مضمون فضائل قرآن کریم کے متعلق ہے یعنی قرآن کریم میں وہ کونسی خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے دوسرے مذاہب کی کتابوں پر اسے فضیلت دی جاسکتی ہے۔اس میں کیا شبہ ہے کہ قرآن کریم پر ہمارے مذہب کا دارو مدار ہے۔اگر خدانخواسته قرآن کریم میں ہی کوئی نقص ثابت ہو جائے یا اس میں غیر معمولی خوبیاں ثابت نہ ہوں تو اسلام کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔پس یہ ایک نہایت ہی نازک مسئلہ ہے جس پر حملہ کرنے سے اسلام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔میں رسول کریم صلی یہ ہم کو قر آن کریم سے باہر نہیں سمجھتا۔آپ بھی قرآن کا جزو ہیں۔جیسا کہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَلَمِينَ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْآمِينَ۔عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ ، یعنی یہ قرآن یقینا رب العالمین خدا کی طرف سے اُتارا گیا ہے۔یہ قرآن رُوحُ الْآمین لے کر تیرے دل پر نازل ہوا ہے تا کہ تو اندار کرنے والوں کی مقدس جماعت میں شامل ہو جائے۔بس ایک قرآن لفظوں میں نازل ہوا ہے اور ایک قرآن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مطہر پر نازل ہوا ہے۔اس وجہ سے رسول کریم سی یہ تم پر کوئی حملہ در حقیقت قرآن کریم پر ہی حملہ ہوگا۔34 ===