فضائل القرآن — Page 409
فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔409 ہیں اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے۔انہوں نے کہا تمہارا پرندہ تو تمہارے ساتھ ہے یعنی تم جہاں بھی ہو گے تمہارے اعمال بد کا نتیجہ تم ہی کو تباہ کرے گا ہمیں تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور کیا تم یہ بات اس لئے کہتے ہو کہ ہم تمہیں اچھے کام یاد دلاتے ہیں بلکہ حق یہ ہے کہ تم حد سے گزرنے والی قوم ہو اس لئے تم اپنے اعمال کی ضرور سزا پاؤ گے۔اس جگہ بھی طائز کا لفظ استعمال ہوا ہے جو قوت عملیہ اور نتیجہ عمل کے معنوں میں ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس لفظ کے استعمال کی حقیقت کیا ہے اور اس کی انسان کے ساتھ نسبت کیا ہے؟ سو اس کے متعلق جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں سورۃ بنی اسرائیل میں ایک آیت نظر آتی ہے جو ہمیں اس مضمون کے بہت زیادہ قریب کر دیتی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَكُلَّ اِنْسَانٍ الْزَمْنَهُ طَبِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ كِتبًا يَلْقَهُ مَنْشُورًا اِقْرَأْ كِتَبَكَ، كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا مَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ، وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى، وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا - 9 یعنی ہم نے ہر انسان کے ساتھ ایک پرندہ اُس کی گردن کے نیچے باندھا ہوا ہے اور ہم قیامت کے دن اُس کے اعمال نامہ کو اُس کے سامنے لائیں گے جسے وہ بالکل گھلا ہوا پائے گا اور اُسے کہا جائے گا اسے پڑھ کر دیکھ لے اور اپنی نیکی بدی کا آپ حساب کرلے کیونکہ آج تیرا نفس ہی تیرا حساب لینے کے لئے کافی ہے اور یا درکھو کہ جو ہدایت پاتا ہے وہ اپنے لئے پاتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے اس کا نقصان بھی اُسی کو ہوتا ہے کوئی کسی کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتا اور ہم اُس وقت تک لوگوں کو عذاب نہیں دیتے جب تک کہ اُن کی طرف کوئی رسول مبعوث نہ کرلیں۔یہاں قرآن نے طائر کے نہایت لطیف معنی کئے ہیں اور بتایا ہے کہ ہر انسان کی گردن کے نیچے اُس کا پرندہ بندھا ہوا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس کا مفہوم کیا ہے؟ سو جب ہمیں خدا تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ یہ پرندہ ہر انسان کی گردن کے نیچے ہے تو ہمیں یہ تو نظر آ رہا ہے کہ کوئی پرندہ گردن کے نیچے نہیں ہوتا۔پس صاف معلوم ہوا کہ اس پرندے سے مراد کوئی اور چیز ہے اور وہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ قوت عمل یا نتیجہ عمل کا نام خدا تعالیٰ نے طائر رکھا ہے۔پس جس قسم کے بھی انسان