فضائل القرآن — Page 410
فصائل القرآن نمبر۔۔۔410 اعمال بجالاتا ہے اُن کی پرندے والی شکل بنتی چلی جاتی ہے۔اگر تو انسان نیک اعمال بجالاتا ہے تو وہ انسان کو آسمان روحانیت کی طرف اُڑا کر لے جاتے ہیں جیسے ہوائی جہاز فضائے آسمانی میں اُڑا کرلے جاتا ہے اور اگر اعمال بُرے ہونگے تو لازما پرندہ بھی کمزور ہوگا اور انسان بجائے او پر اُڑنے کے نیچے کی طرف گرے گا۔اب قرآن کریم ایک طرف تو یہ مضمون بیان کرتا ہے کہ ہم نے ہر انسان کے ساتھ ایک طائر باندھ رکھا ہے اگر وہ اچھے عمل کرے گا تو وہ طائر اسے اُو پر اڑا کر لے جائے گا اور اگر بُرے اعمال کرے گا تو وہ اُسے نیچے گرا دے گا اور دوسری طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی مضمون کو ان الفاظ میں ادا فرماتے ہیں کہ مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ الَّا يَوْلَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يَهَوِدَانِهِ أَوْيْتَصِرَانِهِ أَوْ مَجَسَانِه هے کہ ہر انسان کو خدا تعالیٰ نے فطرت صحیحہ پر پیدا کیا ہے پھر ماں باپ اُسے یہودی یا مجوسی یا نصرانی بنا دیتے ہیں گویا انسان میں اُڑنے کی طاقت موجود ہے اور اُسے پرواز کے پر عطا کئے گئے ہیں۔یہی مضمون محل إِنْسَانِ الْزَمْنَهُ طَئِرَهُ فِي عُنْقِهِ مِیں بیان کیا گیا ہے کہ جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے اُس کا پرندہ بھی اُس کے ساتھ پیدا کر دیا جاتا ہے۔پھر بعض ماں باپ تو اُس کا گلا گھونٹ دیتے ہیں اور بعض جو بچ جاتے ہیں اُن کے لئے پرواز کی صورت پیدا ہو جاتی ہے اور عمل نیک کی وجہ سے اُن کا طائر یعنی فطرتی مادہ سعادت ترقی کرتا رہتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ فاطر میں فرماتا ہے۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ فَاطِرِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَبِكَةِ رُسُلًا أُولَى أَجْنِحَةٍ مَّثْنى وَثُلكَ وَرُبع الر یعنی سب تعریفیں اس اللہ کی ہیں جو آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے والا ہے اور فرشتوں کو ایسی حالت میں رسول بنا کر بھیجنے والا ہے جب کہ کبھی تو اُن کے دو دو پر ہوتے ہیں کبھی تین تین اور کبھی چار چار۔پھر وہ انسانوں کی طرف آتا ہے اور فرماتا ہے۔مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا ، إِلَيْهِ يَصْعَدُ الكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُه وَالَّذِينَ يَمْكُرُونَ السَّيَاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَكْرُ أُولَبِكَ هُوَ يَبُورُ۔۵۲ فرماتا ہے تمہیں یہ تو معلوم ہو گیا کہ مختلف فرشتوں کی ترقی کے لئے ہم نے کئی کئی پر بنائے ہوئے ہیں مگر اے انسانو! تمہیں یادرکھنا چاہئے کہ تمہارے لئے بھی ترقی کے مواقع موجود ہیں بلکہ اگر تم چاہو تو فرشتوں سے بھی آگے بڑھ سکتے ہو۔پس تم میں سے جو کوئی عزت حاصل کرنا چاہتا ہے اسے یادرکھنا چاہئے کہ تمام عزت اللہ تعالی کے