فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 434

فضائل القرآن — Page 408

فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔408 الْحَسَنَةُ قَالُوا لَنَا هَذِهِ ، وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ تَطَيَّرُوا مُوسَى وَمَنْ مَّعَهُ أَلَا إِثْمَا ظيرُهُمْ عِنْدَ اللهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ۔۲۳ یعنی جب اُن کو کوئی خوشی پہنچتی ہے اور ان پر خوشحالی کا دور آتا ہے تو کہتے ہیں یہ ہمارا حق ہے اور جب ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو کہتے ہیں موسی اور اُس کے ساتھیوں کی نحوست کا نتیجہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔أَلَا إِنَّمَا ظُبُرُ هُمْ عِنْدَ اللہ سنو! اُن کا پرندہ یعنی اُن کے وہ اعمال جنہیں وہ بجالاتے ہیں خدا کے پاس موجود ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم پر موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کی وجہ سے عذاب آیا اور خدا کہتا ہے کہ ان کا پرندہ ہمارے پاس موجود ہے۔بظاہر اس کا آپس میں چونکہ کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا اس لئے لغت والے لکھتے ہیں کہ طائر کے ایک معنی انسانی اعمال کے بھی ہیں۔چنانچہ امام راغب لکھتے ہیں۔وَكُلُّ اِنْسَانِ الْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِہ کے معنی ہیں عَمَلَهُ الَّذِی طَارَ عَنْهُ مِنْ خَيْرٍ وَشَرَ 2 یعنی ای جگہ طائر سے مراد ہر اچھا یا بر اعمل ہے جو انسان سے سرزد ہوتا اور پھر اڑ کر نظروں سے غائب ہو جاتا ہے۔اقرب میں بھی طائر کے ایک معنی عملہ الَّذِي قَلَّدَهُ طَارَ عَنْهُ مِنْ خَيْرٍ وَشَرٍ اس کے لکھے ہیں یعنی انسانی عمل خواہ اچھا ہو یا برا۔پھر فرماتا ہے قَالُوا اطَيَّرُ نَا بِكَ وَمَنْ مَّعَكَ قَالَ ظَهِرُ كُمْ عِنْدَ اللهِ بَلْ أَنْتُمْ قَوْم تُفتَنُونَ " جب شمور کے پاس حضرت صالح علیہ السلام آئے تو انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ تیرے اور تیرے ساتھیوں کے برے اعمال کی نحوست کی وجہ سے ہم تباہ ہوئے ہیں جیسے آج کل کہتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کی نحوست کی وجہ سے ہی طاعون اور دوسری وبائیں آئیں۔فرماتا ہے ان کے نبی نے ان کو جواب دیا کہ طائِرُ كُمْ عِنْدَ اللہ تمہارا طائر تو اللہ کے پاس ہے بَلْ أَنْتُمْ قَوْم تُفتَنُونَ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم ایک ایسی قوم ہو جسے آزمائش میں ڈالا گیا ہے۔پھر تین رسولوں کا سورۃ لیستں میں ذکر کر کے فرماتا ہے قَالُوا إِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ لَبِنْ لَّمْ تَنْتَهُوا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّنَّكُمْ مِنَا عَذَابٌ أَلِيمٌ۔قَالُوا طَابِرُكُمْ مَّعَكُمْ ابن ذُرِّرْتُمْ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ ٢٨ یعنی جب وہ مصلح اور رسول ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری وجہ سے بڑی تکلیفیں اُٹھا رہے ہیں اور تمہارا آنا ہم منحوس سمجھ ط