فضائل القرآن — Page 390
فصائل القرآن نمبر ۶۰۰۰ 390 اور خشکی سے کان بجنے لگتے ہیں تو کہتے ہیں جن آگیا حالانکہ اُس وقت ان کا دماغ بگڑ چکا ہوتا ہے۔تر و تازہ دماغ کے ہوتے ہوئے جن کبھی انسان کے پاس نہیں آتے۔اس جگہ جنوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قدِ استَكْثَرْتُم مِّنَ الْإِنْسِ کہ ان کے اکثر انسانوں سے تعلقات ہیں اور انسان بھی کہیں گے کہ ہم ان سے بڑا فائدہ اُٹھاتے رہے مگر تم اپنے محلے اور گاؤں میں پھر کر لوگوں سے دریافت کر لو کہ کیا پہچاس یا اکاون فیصدی لوگ جنوں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔سو میں سے ایک بھی ایسا شخص نہیں ملے گا جو یہ کہتا ہو کہ میں جنوں سے فائدہ اُٹھاتا ہوں اور میرے ان سے تعلقات ہیں۔جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اس جگہ جن سے مراد انسانوں کے علاوہ کوئی اور مخلوق نہیں بلکہ انسانوں میں سے ہی بعض جن مراد ہیں اور انسانی جنوں کی دوستیاں بڑی کثرت سے نظر آتی ہیں۔قرآن کریم سے ثبوت کہ جن انسانوں کے گروہ کا ہی نام ہے پھر اس سے بڑھ کر ایک اور دلیل ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قیامت کے دن دوزخیوں سے کہا جائے گا کہ يَمَعْشَرَ الْجِنِ وَالْإِنْسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلُ مِنْكُمْ ۲ یعنی اے جنوں اور انسانوں کے گروہ! جو ہمارے سامنے کھڑے ہو بتاؤ کہ کیا تمہارے پاس ایسے رسول جو تم ہی میں سے تھے نہیں آئے ؟ اب بتاؤ جب اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ وآلہ وسلم پر بعض جن بھی ایمان لائے اور دوسری طرف یہ فرماتا ہے کہ ہمارا رسول بھی ان ہی میں سے تھا تو کیا اس سے صاف ثابت نہیں ہوتا کہ وہ جن بھی انسان تھے کوئی غیر مرئی وجود نہیں تھے۔پھر یہیں تک بات ختم نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا ا وہ تمہیں اندار بھی کرتے تھے اور اس دن سے ڈراتے تھے۔گویا حضرت موسی ، حضرت سلیمان اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنوں کو ڈرایا بھی کرتے تھے اور انہیں یوم آخرت اور اللہ تعالیٰ کا خوف دلایا کرتے تھے اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہ جن جن الإنس تھے جس طرح شیاطین الانس ہوتے ہیں کوئی علیحدہ قسم کی مخلوق نہیں تھے۔