فضائل القرآن — Page 387
فصائل القرآن نمبر ۶۰۰۰ 387 اُسے قبول کرو۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام گناہ بخش دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے پناہ دے گا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جن تو رات پر، حضرت موسیٰ پر ، قرآن پر اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے تھے۔پس حضرت سلیمان ہی ایک ایسے نبی نہیں جن پر جن ایمان لائے بلکہ موسیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی قرآن کریم سے ثابت ہے کہ جنات آپ پر ایمان لائے مگر افسوس اُن لوگوں پر جو سلیمان کے جنوں کے تو عجیب عجیب قصے سناتے ہیں۔کہتے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام قالین پر بیٹھ جاتے اور چار جنوں کو چاروں کونے پکڑوا دیتے اور وہ انہیں اڑا کر آسمانوں کی سیر کراتے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو جن ایمان لائے اُن کے متعلق یہ نہیں بتاتے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کبھی ایسی مدد کی ہو حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑی بڑی تکلیفیں اُٹھا کر سفر کرتے تھے۔آپ کے صحابہ کو کئی دفعہ سواریاں نہ ملتیں اور وہ روتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے اور عرض کرتے کہ ہمارے لئے کسی سواری کا انتظام فرما دیجئے تو ہم جانے کے لئے حاضر ہیں۔کئی دفعہ صحابہ نے ننگے پیر لمبے لمبے سفر کئے ہیں مگر یہ تمام دکھ اور تکلیفیں دیکھنے کے باوجود ان سنگدل جنوں کا دل نہ پیجا اور انہوں نے آپ کی کوئی مدد نہ کی۔حضرت سلیمان کے وقت تو لشکر کا لشکر اُٹھا کر وہ دوسری جگہ پہنچا دیتے تھے اور یہاں ان سے اتنا بھی نہ ہوا کہ دس ہیں مہاجرین کو ہی اُٹھا کر میدانِ جنگ میں پہنچا دیتے۔ان الفاظ کو استعارہ نہ سمجھنے والوں کی ایک دلیل بعض لوگ کہتے ہیں کہ جن غیر از انسان وجود ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت موسیٰ اور حضرت سلیمان پر ایمان لائے تھے مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان معنوں کو قرآن کریم تسلیم کرتا ہے۔اگر یہ ایک استعارہ ہے تو یقینا قرآن کریم نے اس کو اپنی کسی دوسری آیت میں حل کیا ہوگا اور استعارہ تسلیم نہ کرنے کی صورت میں قرآن کریم کی دو آیتیں با ہم ٹکرا جائیں گی اور اس طرح قرآن میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔پس ہمیں دیکھنا چاہئے کہ اس کو استعارہ تسلیم نہ کرنے سے قرآن میں