فضائل القرآن — Page 371
فصائل القرآن نمبر۔۔۔371 استعاروں کے بغیر بعض مضامین ادا ہی نہیں ہو سکتے حقیقت یہ ہے کہ استعارہ کے صحیح استعمال کے بغیر مضمون صحیح طور پر اداہی نہیں ہوسکتا۔مثلاً عام طور پر جب کسی شخص سے کوئی حماقت کا کام سرزد ہو تو اُسے گدھا کہہ دیا جاتا ہے۔یا کوئی بہادر شخص ہو تو اُس کے متعلق ہم شیر کا لفظ استعمال کر دیتے ہیں۔اب اگر ہم شیر کا لفظ استعمال نہ کریں اور خالی بہادر کہ دیں تو جو شخص استعارہ کو مجھنے کی طاقت رکھتا ہے وہ بہادر کے لفظ سے کبھی وہ مفہوم نہیں سمجھ سکتا جو شیر کے لفظ سے سمجھ سکتا ہے۔یہ اور بات ہے کہ کوئی استعارہ غلط استعمال کر دے۔مثلاً گدھا ہے گدھا ہمیشہ بے موقع کام کرنے والا ہوتا ہے۔راہ چلتے ہوئے باقی جانوروں کو ہٹاؤ تو وہ ایک طرف ہو جائیں گے مگر گدھے کو ہٹاؤ تو وہ ٹیڑھا کھڑا ہو جائے گا اور رستہ روک لے گا۔اب اگر ہم کسی کو بیوقوف کہیں تو اس بیوقوف کے لفظ سے یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا کہ وہ بے موقع کام کرتا ہے لیکن گدھے کا لفظ استعمال کرنے سے فوراً دوسرا شخص سمجھ جائے گا کہ یہ بے موقع کام کرتا ہے۔اسی طرح گدھے سے بوجھ اُٹھانے کا کام بھی لیا جاتا ہے۔قرآن کریم میں اسی وجہ سے علمائے یہود کی مذمت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اُن کی مثال اُس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔اب جولوگ اس نکتہ کو سمجھتے ہیں کہ کسی کو گدھا کہنے سے ایک مقصد اس امر کا اظہار بھی ہوتا ہے کہ وہ بد عمل ہے وہ فور سمجھ جائیں گے کہ جسے گدھا کہا گیا ہے وہ نہ صرف بے موقع کام کرتا ہے بلکہ بے عمل بھی ہے لیکن خالی احمق یا بیوقوف کا لفظ کہنے سے یہ مضمون ادا نہیں ہوتا۔اسی طرح جو مضمون کسی کو شیر کہنے سے ادا ہوتا ہے وہ خالی بہادر کہنے سے ادا نہیں ہوتا کیونکہ شیر کی خوبی یہ ہے کہ وہ بلا وجہ حملہ نہیں کرتا۔دوسرے وہ زیر دست سے چشم پوشی کرتا ہے۔اگر شیر کے آگے لیٹ جائیں تو وہ حملہ نہیں کرتا سوائے اس کے کہ اُس کے منہ کو خون لگ چکا ہو۔یہ خوبی شیر میں یہاں تک دیکھی گئی ہے کہ بعض جگہ چھوٹے بچے لیٹ ہوئے تھے کہ اتفاقاً وہاں شیر آ گیا۔ایسی حالت میں بجائے اُن پر حملہ کرنے کے وہ انہیں چاٹنے لگ گیا۔اسی طرح اس میں خوف بالکل نہیں ہوتا۔یہ خصوصیات ہیں جو شیر میں پائی جاتی ہیں۔اب اگر ہم کسی کے متعلق محض بہادر کا لفظ استعمال کریں تو گو اس سے اُس کی جرات اور دلیری کا اظہار ہو جائے گا مگر یہ اظہار نہیں ہوگا کہ وہ بلا وجہ حملہ نہیں کرتا۔وہ زیر دست سے چشم پوشی کرتا ہے اور ڈر اور خوف اس میں بالکل نہیں۔تیسرے اس میں ہیبت ہوتی ہے۔یہ خصوصیت بھی ایسی ہے جو شیر میں ہی پائی جاتی ہے کہ اس میں خدا تعالیٰ نے ایسی ہیبت پیدا کر دی ہے کہ حملہ سے نہیں