فضائل القرآن — Page 372
فصائل القرآن نمبر۔۔۔372 بلکہ اُس کی شکل سے ہی دوسرے کو ڈر لگنے لگ جاتا ہے۔غرض استعارہ مضمون میں وسعت پیدا کر دیتا ہے۔چنانچہ اس کا ثبوت کہ یہ ضروری چیز ہے یہ ہے کہ رویا میں نوے فیصدی استعارات سے کام لیا جاتا ہے۔انسان دیکھتا ہے کہ میں بینگن کھا رہا ہوں اور اس سے مراد یہ ہوتا ہے کہ اُسے کوئی غم پہنچے گا۔وہ دیکھتا ہے کہ فلاں عزیز مر گیا ہے اور اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اس کی عمر لمبی ہوگی۔وہ دیکھتا ہے کہ اپنے بچے کو ذبح کر رہا ہے اور اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ اسے دین کے لئے وقف کر دے گا۔وہ دیکھتا ہے کہ میں بکرا ذبح کر رہا ہوں اور مراد یہ ہوتی ہے کہ اس کا کوئی بچہ مرجائے گا۔میں اس بحث میں اس وقت نہیں پڑتا کہ رویا خدا تعالیٰ کی طرف سے دکھائی جاتی ہیں یا دماغی کیفیت کا ایک نتیجہ ہیں لیکن بہر حال اگر رؤیا ایک دماغی کیفیت ہے تب بھی سب دماغوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کر دیا ہے کہ استعارہ کے بغیر گزارہ نہیں اور اگر رویا خدا تعالیٰ کی طرف سے دکھائی جاتی ہے تب بھی خدا تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ استعارہ کے بغیر گزارہ نہیں۔پس بنی نوع انسان اور خدا تعالیٰ کی متفقہ شہادت اس امر پر ہے کہ استعارہ کے بغیر گزارہ نہیں ہوسکتا۔باقی رہے خطرات سو میں انہیں تسلیم کرتا ہوں۔میں مانتا ہوں کہ استعاروں کو نہ سمجھ کر ہی عیسائی گمراہ ہو گئے۔کہیں انہوں نے حضرت عیسی کو خدا قرار دے لیا تو کہیں شریعت کو لعنت قرار دے دیا لیکن اگر کوئی ذریعہ ایسا ہو جس سے یہ خطرات دور کئے جاسکیں تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو کلام ان خطرات کا ازالہ کر دے وہ بہترین کلام سمجھا جائے گا۔( میں اس وقت انسانی کلام پر گفتگو نہیں کر رہا بلکہ الہامی کتابوں کا ذکر کر رہا ہوں ) غلط فہمیاں دور کرنے کے ذرائع پہلی الہامی کتابوں نے بے شک استعارے استعمال کئے ہیں مگر ان کے خطرات کو دُور کرنے کے لئے بعد میں نبی آتے رہے اور جب بھی لوگوں کو کوئی غلطی لگی ، آنے والے نبیوں کے ذریعہ اس کا ازالہ ہوتا رہا لیکن ان استعارات کو سمجھنے کے لئے ان میں اندرونی شہادت موجود نہیں ہوتی تھی۔مثلاً انجیل میں حضرت مسیح کو ابن اللہ کہا گیا ہے مگر اس استعارہ کو حل کرنے کے لئے اندرونی شہادت اس میں موجود نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ یہ ایک عارضی تعلیم ہے جب اس کے ذریعہ لوگوں کو دھوکا لگا