فضائل القرآن — Page 357
فصائل القرآن نمبر۔۔۔استعارات کو نہ سمجھنے والے طبقہ کی ذہنیت 357 غرض مذہبی کتابوں میں یہ مشکل ہوتی ہے کہ جہاں کوئی استعارہ آیا وہاں ایک طبقہ کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے ہم آگے چلنے نہیں دیں گے جب تک تم اس بات کو انہی الفاظ میں تسلیم نہ کرو جو قرآن کریم نے بیان کئے ہیں۔دودھ کی نہروں کا ذکر آجائے تو جب تک وہ یہ تسلیم نہ کر لیں کہ منٹگمری اور لا ہور اور شیخو پورہ کی بھینسیں خدا تعالیٰ نے رکھی ہوئی ہونگی انہیں دودھ کی نہروں کا یقین ہی نہیں آتا۔کیلے کا ذکر آ جائے تو جب تک بمبئی کا کیلا جنت میں نہ مانیں اُن کی تسلی ہی نہیں ہوتی۔شراب کا ذکر آجائے تو گو وہ یہ ماننے کے لئے تیار ہو جائیں گے کہ جنت کی شراب زیادہ صاف ہوگی مگر یہ نہیں مانیں گے کہ شراب سے مراد کوئی اور چیز بھی ہو سکتی ہے اور اگر حور و غلمان کا ذکر آجائے تو پھر تو ان کے منہ سے رالیں ٹپک پڑتی ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الاول" کے عہد خلافت میں ایک دفعہ میں مدارس دیکھنے کے لئے لکھنو گیا۔اتفاقاً وہاں ندوۃ العلماء کا جلسہ تھا۔میں بھی جلسہ دیکھنے کے لئے چلا گیا۔ایک مولوی عبد الکریم صاحب پروفیسر تھے۔اُن کی تقریر اس وقت نماز کی خوبیوں کے متعلق تھی۔سامعین اگر چہ کم تھے مگر اُن میں سے اکثر مسلمان تھے اور وہ بھی مولوی طرز کے۔ایک مسلمان بیرسٹر بھی شریک تھے جو میرے ساتھ ہی بیٹھے تھے۔مولوی صاحب نے تقریر شروع کی اور کہا کہ لوگو! نماز پڑھنی چاہئے۔نماز کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے انسان کو جنت ملتی ہے اور جنت کیا ہوتی ہے؟ اس کے بعد انہوں نے جنت کی جو کیفیت بیان کرنی شروع کی اُس کا ذکر میرے لئے ناممکن ہے۔اس کا ایک چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا میں بیان کر دیتا ہوں۔انہوں نے کہا وہاں بہترین شکل کی خوبصورت تصویریں ہونگی اور جس تصویر کو دیکھ کر انسان کا دل للچائے گاوہ فور خوبصورت عورت بن جائے گی اور پھر مردو عورت کے تعلقات شروع ہو جائیں گے اور ان تعلقات کا جنت کی طرح اختتام نہیں ہوگا۔یہ قص اس بات کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے قرآن میں دو چار لفظ حور کے پڑھ لئے اور نتیجہ نکال لیا کہ جو کچھ یہاں ہے وہی کچھ وہاں بھی ہوگا۔میرے پاس جو بیرسٹر بیٹھے تھے وہ کہنے لگے اچھا ہوا یہ لیکچر رات کو رکھا گیا اگر دن کو رکھا جاتا اور لوگ زیادہ تعداد میں شامل ہو جاتے تو ہماری بڑی ذلت ہوتی۔تو الہامی