فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 434

فضائل القرآن — Page 340

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 340 دوسرے کا قرضہ ان کے ذمہ ہوگا وہ اپنی طرف سے ادا کر دونگا۔اس پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے کہ اُن کی طرف سے ہم آپ کفارہ دے دینگے۔اس کفارہ اور عیسائیوں کے کفارہ میں ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ عیسائی کہتے ہیں کہ خدا چونکہ معاف نہیں کر سکتا اس لئے اُس نے اپنے بیٹے کو قربان کر دیا۔اسلام کہتا ہے خدا تعالیٰ مالک ہے وہ معاف کر سکتا ہے لیکن وہ کسی دوسرے کا حق ضائع نہیں کرتا خود اجر دے دیتا ہے۔ساتویں اصولی اصلاح خدا تعالی کی ربوبیت عالمین سے متعلق ساتویں اصولی اصلاح قرآن کریم نے خدا تعالیٰ کی صفت ربوبیت عالمین کے متعلق کی ہے۔ہر قوم نے خدا تعالیٰ کی رب العالمین کی صفت کا انکار کر رکھا تھا اور ہدایت کو صرف اپنے ملک اور اپنی قوم کے لئے مخصوص کر چھوڑا تھا۔حتی کہ مسیحیت جو تبلیغی مذہب ہے اُس نے گو آئندہ کے لئے دروازہ کھولا تھا مگر گذشتہ کے متعلق وہ بھی یہودی مذہب سے ہی ہدایت وابستہ قرار دیتی تھی۔قرآن کریم نے آئندہ کے لئے تو یہ اعلان کیا کہ یا آئیهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا۔اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تولوگوں سے کہہ دے کہ میں تم سب کی طرف رسول ہو کر آیا ہوں اور گذشتہ کے متعلق فرمایا - وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ۔ہر قوم میں خدا تعالیٰ کے نبی آتے رہے (۲) دوسرے بعض قوموں کو بعض پر ترجیح دی جاتی تھی۔ایک قوم کو معزز قرار دیا جاتا تھا اور دوسری کو ذلیل ٹھہرایا جاتا۔چنانچہ ہندوؤں نے برہمن اور شودر کی تقسیم کے ذریعہ اور یہود نے کہانت کو بنی لاوی میں مخصوص کر کے مساوات کو مٹا رکھا تھا۔اسی طرح بعض قوموں نے بادشاہت کی وجہ سے اپنے آپ کو فضیلت کا حقدار قرار دیا۔اسلام نے اسے بھی رب العالمین کی صفت کے خلاف قرار دیا اور فرمایا۔يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَابِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خبير ے کہ اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو کئی گروہوں اور قبائل میں تقسیم کر دیا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ بعض لوگ بڑے اور بعض چھوٹے ط