فضائل القرآن — Page 337
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 337 کرتا ہے اگر یہ مانتے ہو تو کس طرح تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ ایسی ہستی جو ظالم نہیں ہے بلاوجہ اُن پر حکومت کر رہی ہے حالانکہ اُن کے پیدا کرنے میں اُس کا کوئی دخل نہیں ہے۔غرض ہر چیز کا جوڑے کی صورت میں ہونا ان کے نقص پر اور ہلاکت اُن کے مخلوق ہونے پر دلالت کرتی ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی حکومت اور اس کی طرف رجوع اُس کے خالق ہونے کا ثبوت ہے۔چھٹی اصولی اصلاح اللہ تعالیٰ کی مالکیت کے متعلق ف چھٹی اصولی اصلاح قرآن کریم نے خدا تعالیٰ کی صفت مالکیت کے متعلق کی ہے۔اس کے بارے میں دو نقص پیدا ہو گئے تھے۔جن میں سے ایک تناسخ کا عقیدہ ہے جو بڑی شدت سے اختیار کر لیا گیا اور کہا جانے لگا کہ دنیا میں بعض انسان ادنی اور ذلیل حالت میں ہیں اور بعض اچھی حالت میں ہیں۔یہ فرق ان کے پچھلے اعمال کا نتیجہ ہے۔اسی طرح بعض سکھ میں ہیں اور بعض دُکھ میں۔یہ بھی گذشتہ اعمال کا نتیجہ ہے۔قرآن کریم کہتا ہے یہ بات غلط ہے۔چنانچہ فرمایا۔حتّی اِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ لَعَلَّى اَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَابِلُهَا وَمِن وَرَابِهِمْ بَرْزَخٌ إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ جب کا فرمر نے لگتے ہیں تو وہ کہتے ہیں خدایا ہمیں پھر دنیا میں واپس لوٹا دے تاکہ ہم جو کچھ چھوڑ آئے ہیں وہ جا کر تیرے راستہ میں لٹا دیں اور نیک اعمال کریں۔فرمایا یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔یہ صرف ایک کلمہ ہے جو اُن کی زبان سے نکل رہا ہے کیونکہ مجرم جب سوچتا ہے کہ میں جہنم میں گیا تو کیا ہوگا تو وہ گھبرا کر کہتا ہے کہ مجھے واپس لوٹا دو۔اسی خیال کے ماتحت تناسخ کا عقیدہ بنایا گیا۔کہتے ہیں خواہش ایجاد کی ماں ہے۔تناسخ کا عقیدہ اس گھبراہٹ سے پیدا ہوا ہے کہ اگر بد عمل مرے تو پھر کیا کریں گے۔در حقیقت یہ جاہل مجرم دماغ کی اختراع ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ایک بات ہے جو اپنے ماحول میں مجرم رُوح کہے گی اور یہ اُس کی ایک طبعی خواہش ہے مگر یہ پوری نہیں کی جاسکتی۔کیوں نہیں کی جاسکتی۔اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا ہے کہ قُلْ لِمَنْ مَّا فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ قُلْ لِلهِ كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ لَيَجْمَعَتَكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ط