فضائل القرآن — Page 296
فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔۵ 296 رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھبراہٹ پیدا ہوئی اور آپ نے یہ دُعا کی کہ اللَّهُمَّ الْعَنْ شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلْفِ كَمَا أَخْرَجُوْنَا مِنْ اَرْضِنَا إِلَى أَرْضِ الْوَبَاءِ اے خدا! شیبہ بن ربیعہ اور عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف کو تباہ کر جنہوں نے ہمیں مکہ کی زمین سے نکال کر بخار کی سرزمین میں پہنچا دیا۔پھر فرمایا۔صَحَحُهَا لَنَا وَ انْقُلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ ^ یعنی اے خدا ! میں دُعا کرتا ہوں کہ تو یہاں سے بخار کو نکال دے اور مُجفہ کی طرف بھیج دے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ اس کے بعد مدینہ سے بخار دُور ہو گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اب اسے میٹرب نہ کہو کیونکہ اس میں عیب اور سزا اور ڈانٹ کے معنے پائے جاتے ہیں بلکہ اسے طیبہ کہو۔وہ غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدینہ میں تشریف لے جانے سے وہاں سے بخار نکل گیا اور اس کی ہوا آج تک نہایت اعلیٰ سمجھی جاتی ہے۔یہ خبر تھی جو اس پیشگوئی میں دی گئی تھی۔چھٹی پیشگوئی یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ کھڑا ہوا اور اُس نے زمین کو لرزا دیا۔اس کے ایک تو ظاہری معنے ہیں۔وہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو یہ لکھا گیا ہے اس میں ایک بات یہ بیان کی گئی ہے کہ إِذَا مَشَى تَقَلَّعَ كَانَمَا يَنحَطُّ فِی صَبَب " جب آپ چلتے تو آپ کا پاؤں زمین پر اس طرح پڑتا کہ گویا پاؤں دھنس گیا ہے۔- دوسرے معنے لرزانے کے یہ ہیں کہ آپ کا بے حد رعب تھا۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔نصرت بالرعب مسيرة شهر یعنی ایک ایک مہینہ کے فاصلہ تک کے لوگ آپ کے رعب سے لرزتے تھے۔قرآن کریم میں بھی یہ ذکر آتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ مِنْ دِيَارِهِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ : مَا ظَنَنْتُمْ أَن تَخْرُجُوا وَظَنُّوا أَنَّهُمْ مَّا نِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللهِ فَأَتْهُمُ اللهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُمْ بِأَيْدِيهِمْ وَايْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَأُولِي الْأَبْصَارِ فر ما یا وہ خدا ہی ہے جس نے اہل کتاب کے کفار کو اُن کے گھروں سے نکالا تمہیں گمان تک نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے۔وہ بھی کہتے تھے کہ ہمارے قلعے ہمیں بچالیں گے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رُعب نے اُن کو تباہ کر دیا۔وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے گھروں کو تباہ کرنے لگے اور وہ بھاگ گئے۔ܢܶܐ ق