فضائل القرآن — Page 17
فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔۔17 اپنی کوشش میں ناکام رہے ہیں۔کے گویا خود تسلیم کرتا ہے کہ یوروپین مصنفوں نے قرآن کریم کے خلاف بڑا زور لگایا ہے مگر سب سے بڑھ کر قرآن کریم کے خلاف خطر ناک کوشش ایک کتاب ہے جو اس وقت میرے ہاتھ میں ہے اور جس کا نام ہے۔تین پرانے قرآنوں کے صفحات ایک عورت نے جوڈاکٹر آف فلاسفی ہے یہ کتاب لکھی ہے اور اس نے بیان کیا ہے کہ وہ مصر میں گئی جہاں اس نے ایک کتاب خریدی جو عیسائی کتابوں کی نقل تھی۔جب اس کے صفحات پر بعض دوائیں لگائی گئیں تو نیچے سے اور حروف نمودار ہو گئے۔ڈاکٹر منگا نانے اس کے متعلق بتایا کہ یہ ایک پرانا قرآن ہے۔جس کے دیکھنے سے معلوم ہوا کہ اس میں اور موجودہ قرآن میں فرق ہے۔وہ کہتے ہیں اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن بگڑ چکا ہے۔وہ اس کا ثبوت اس طرح پیش کرتے ہیں کہ حضرت عثمان نے جب قرآن نقل کیا تو باقی قرآنوں کو جلا دیا۔چونکہ ان میں جو کچھ لکھا تھا اسے کوئی نقل نہ کر سکتا تھا۔اس لئے اس وقت عیسائیوں نے بظاہر اپنے مذہب کی ایک کتاب لکھی لیکن دراصل خفیہ طور پر اس میں وہ قرآن نقل کیا جسے جلانے کا حکم دے دیا گیا تھا۔اب بعض قسم کی دوائیاں لگانے سے پوشیدہ لکھا ہوا قرآن ظاہر ہو گیا ہے۔یہ ایک نہایت خطرناک چال ہے جو چلی گئی۔اس کتاب کا پرانا کاغذ دکھایا جاتا ہے۔اس پر پرانی تحریریں دکھائی جاتی ہیں اور ان سے مختلف قسم کے شبہات پیدا کئے جاتے ہیں۔عیسائیوں کی مزورانہ چالیں اس سے متعلق میں نے مفصل تحقیقات کی ہے جو آج پیش کرنا چاہتا تھا مگر اب نہ وقت ہے اور نہ موقع کیونکہ بادل گھرے ہوئے ہیں۔البتہ اس کے متعلق ایک لطیفہ سنا دیتا ہوں۔وہ صفحات جو اس کتاب میں پرانے قرآن کے قرار دیکر شائع کئے ہیں۔وہ اپنی غلطی آپ ظاہر کر رہے ہیں۔مثلاً قرآن میں آتا ہے۔فَآمِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ النَّبِي الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ سے لیکن جو عیسائیوں کا لکھا ہوا قرآن ہے۔اس میں آتا ہے فَأَمِنُوا بِاللهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْأُتِيَ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَتِهِ وَاتَّبَعَهُ۔کہ وہ اللہ پر