فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 434

فضائل القرآن — Page 18

فصائل القرآن نمبر۔۔۔18 ایمان لاتا ہے اور اس کے کلمہ پر اور کلمہ سے مراد حضرت عیسی لیتے ہیں۔مطلب یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عیسی کے پیرو تھے۔اس قسم کی چالیں اس میں چلی گئی ہیں۔مگر باوجود اس قسم کی کوششوں کے یہی باتیں ان کو جھوٹا ثابت کر رہی ہیں۔اول اس طرح کہ عیسائیوں کی طرف سے جو قر آن پیش کیا جاتا ہے اس کی وہی ترتیب ہے جو موجودہ قرآن کی ہے۔اس لئے ان کا یہ کہنا انہی کے پیش کردہ قرآن سے غلط ہو گیا کہ حضرت عثمان کے وقت قرآن کریم کی ترتیب بدل گئی تھی۔پھر اس قرآن میں بعض ایسے الفاظ لکھے ہیں جو عربی کے ہیں ہی نہیں۔مثلاً ایک جگہ علم کو ایلم لکھا ہے۔اسی طرح ایک جگہ ایسی غلطی کی ہے جس سے اس چور کا مشہور قصہ یاد آ جاتا ہے جس کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ نیا نیا چور بنا تھا۔چوری کرنے کے بعد جب پولیس تحقیقات کے لئے آئی تو وہ خود بھی وہاں چلا گیا۔اور تحقیقات میں مدد دینے لگ گیا۔کہنے لگا کہ معلوم ہوتا ہے چورادھر سے آیا۔یہاں سے اُترا اور پھر ادھر گیا۔پولیس والوں نے تاڑ لیا کہ اس کا چوری میں ضرور دخل ہے۔اس لئے اس سے ساری باتیں پوچھنے لگے اور جدھر وہ لے گیا اس کے ساتھ چل پڑے۔آخر ایک دروازہ کے پاس جا کر کہنے لگا۔معلوم ہوتا ہے چور اس دروازہ سے نکلا اور اسے یہاں سے ٹھوکر لگی۔اس پر گٹھڑی اندر اور میں باہر۔اس موقع پر بے اختیار اس کے منہ سے میں نکل گیا۔پولیس نے فوراً اسے پکڑ لیا۔یہی حال یہاں ہوا۔قرآن کریم میں ایک آیت ہے وَأَنْزَلَ جُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا اللہ تعالیٰ نے ایسے لشکر اُتارے جن کو تم دیکھ نہیں رہے تھے۔یہاں ھا کی ضمیر جنود کی طرف جاتی ہے۔مگر عیسائیوں کے پیش کردہ قرآن میں کہا گیا ہے کہ یہاں جنڈا ہے مگر آگے کا ہی رکھا ہے اور ضمیر کو نہیں بدلا۔غرض اس قسم کی بہت سی شہادتیں ہیں جن سے اس کے اندر سے ہی غلطیاں معلوم ہو جاتی ہیں معلوم ہوتا ہے کسی نے مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے اسے لکھا اور اس میں غلطیاں کرتا گیا۔چنانچہ واذ استسقی کوک کے ساتھ لکھا ہے۔اسی طرح هُمُ السُّفَهَاءُ کو هُمُشفَها لکھ دیا۔اسی طرح اور کئی الفاظ غلط لکھے ہیں۔مثلاً إِنَّمَا النَّسِی کو انما آل نابیتی لکھا ہے۔حالانکہ نایسی ان معنوں میں آتا ہی نہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کوئی جاہل عیسائی قرآن کی نقل کرنے بیٹھا جسے عربی نہ آتی تھی اور اس قسم کی