فضائل القرآن — Page 291
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ پھر لکھا ہے:- 291 تب وہ مقدس قوم اور خداوند کے چھڑائے ہوئے کہلائیں گے اور تو مطلوبہ کہلائے گی اور وہ شہر جو ترک کیا نہ گیا۔۴۳ یہ سب باتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں پائی جاتی ہیں۔مثلاً (۱) کہا گیا ہے کہ وہ ایک نئے نام سے کہلائے گا۔جسے خداوند کا مونہہ خو درکھ دے گا۔چنانچہ یہ نیا نام اسلام ہے جو خدا تعالیٰ نے خود رکھا اور ارشاد فرمایا کہ هُوَ سَلَكُمُ الْمُسْلِمِین خدا نے خود تمہارا نام مسلم رکھا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ اسلام کے سوا کوئی مذہب ایسا نہیں جس کا نام خدا نے رکھا ہو۔نہ موسوی مذہب کا کوئی نام رکھا گیا اور نہ عیسوی مذہب کا بلکہ اُن کے پیروؤں کو بھی کبھی اپنا نام نہ سوجھا مگر یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا خود نام رکھے گا اور یہ بات صرف اسلام میں ہی پائی جاتی ہے۔دوسری بات یہ بتائی کہ اس کی قوم کو خدا کی خوشنودی حاصل ہوگی۔چنانچہ آتا ہے کہ وہ قوم حفیظاہ کہلائے گی۔یہ عبرانی لفظ ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تم سے راضی ہوا اور قرآن کریم میں آتا ہے۔وَالشَّبِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهْجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ - " یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والے وہ جو ابتداء میں ہی جلد ایمان لے آئے اور مہاجرین اور انصار بھی جو بعد میں آئے۔اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔گویا قرآن صرف یہی نہیں کہتا کہ خدا مسلمانوں سے خوش ہوا بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ وہ بھی خدا سے خوش ہوئے۔تیسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ اُس کا گھر بعدلاہ کہلائے گا۔یعنی اُس کی حفاظت کی جائے گی اور اُس کی زمین خاوند والی کہلائے گی۔یعنی کبھی تباہ نہ ہوگی۔اس کے متعلق بھی قرآن کریم میں آتا والطورِ وَ كِتَبٍ مَّسْطُورٍ في رَقٍ مَّنْشُورٍ وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعَ وَالْبَحْرِ الْمَسْجُورِ فرمایا ہم قسم کھا کر کہتے ہیں طور کی یعنی طور کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اس کتاب کو بھی بطور شہادت پیش کرتے ہیں جو لکھی ہوئی ہے اور ہمیشہ لکھی جائے گی اور اس خانہ کعبہ کی بھی قسم کھاتے ہیں جو ہمیشہ معمور رہے گا اور دُور دُور سے لوگ اس کی طرف آتے رہیں گے اور اس چھت کو بھی شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو ہمیشہ بلند