فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 434

فضائل القرآن — Page 290

فصائل القرآن نمبر ۵ 290 (۳) فرمانروا ہوگا (۴) ایسی قومیں اُس پر ایمان لائیں گی جنہوں نے بنی اسرائیل کے نام نہ سُنے ہوں گے اور نہ بنی اسرائیل نے اُن کے۔لوگوں کے لئے گواہ ہونے کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے۔هُوَ سلمكُم الْمُسْلِمِينَ ، مِنْ قَبْلُ وَفِي هَذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاء عَلَى النَّاس " یعنی ہم نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے۔اس زمانہ میں بھی اور پہلے بھی تا کہ یہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم باقی دنیا پر گواہ ہو اور اس رسالت کو قیامت تک لئے چلے جاؤ۔گویا وہی الفاظ جو بائیبل میں آتے ہیں قرآن کریم میں بھی آئے ہیں۔(۳-۲) پیشوا اور فرمانروا کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے۔قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله - لا یعنی اے لوگو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میری فرمانبرداری اختیار کرو۔میں تمہارا پیشوا اور فرمانروا ہوں۔چوتھی بات یہ بیان فرمائی کہ دوسری قو میں اس رسول پر ایمان لاویں گی۔سو اس کے متعلق بھی قرآن کریم میں آتا ہے۔قُلْ يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ اِلَيْكُمْ (اعراف: ۱۵۹) یعنی تو ساری دنیا سے کہہ دے کہ میں تم سب کی طرف رسول ہو کر آیا ہوں۔اب دیکھ لو ہم میں سے کوئی کسی قوم کا ہے اور کوئی کسی قوم کا اور یہ تو میں نہ عربوں کو جانتی تھیں اور نہ عرب انہیں جانتے تھے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں سب ایک ہوگئی ہیں۔پھر یسعیاہ باب ۶۲ آیت ۲ تا ۵ میں ہی لکھا ہے :- تب قو میں تیری راستباری اور سارے بادشاہ تیری شوکت دیکھیں گے اور تو ایک نئے نام سے کہلایا جائے گا جو خداوند کا مونہہ خود تجھے رکھ دے گا اور تو حفیظاہ کہلائے گی اور تیری سر زمین بعولاہ کیونکہ خدا وند تجھ سے خوش ہے اور تیری زمین خاوند والی ہوگی ،،۲۲ اس میں بتایا گیا ہے کہ آنے والے موعود کے زمانہ میں اُس کی قوم حفیظاہ کہلائے گی اور اُس کی زمین بعولاہ۔سارے بادشاہ اس کی شوکت دیکھیں گے اور اُس کا نیا نام رکھا جائے گا۔