فضائل القرآن — Page 272
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 272 ہر وقت کی علامت برداشت نہیں کر سکتا اس لئے اپنے فعل کو جائز قرار دینے کے لئے دلائل پیدا کرتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَنُ أَعْمَالَهُمْ اُن کو اُن کے اعمال خوبصورت دکھانے لگتا ہے اور جب لوگ کسی برے فعل کے عادی ہو جاتے ہیں تو اُسے اچھا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔تیسر ا دعوی یہ کیا کہ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ یہ سلسلہ ختم نہیں ہو گیا۔ساری کی ساری قو میں آج بھی ایسی حالت میں ہیں۔اب تک اس شیطانی عمل کا اثر اور اس کی لعنت اُن پر باقی ہے کیونکہ جو بگاڑ ایک دفعہ پیدا ہوا اُسے خدا ہی دُور کر سکتا ہے کوئی انسان دُور نہیں کر سکتا۔چوتھی بات یہ بیان کی کہ وَلَهُمْ عَذَاب الیم وہ اس نقص کی وجہ سے جہنم میں گرنے کے خطرہ میں ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت اُن کی مدد کرنا چاہتی ہے۔پانچویں بات یہ بیان کی کہ وَمَا انْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ۔ایسی حالت میں ضروری تھا کہ خدا تعالیٰ رحمت کا دروازہ کھولتا۔جب اُس کے بندے گمراہ ہو گئے۔پہلی کتابیں خراب ہو گئیں تو خدا تعالیٰ نے رحمت کا دروازہ کھولا۔پس اے رسول ! اُس نے تجھ پر یہ کتاب اُتاری ہے تاکہ تو انہیں وہ اصل تعلیم بتائے جس سے اختلاف کر کے وہ ادھر اُدھر چلے گئے تا کہ بگاڑ دُور ہو۔چھٹی بات یہ بیان کی کہ پھر اسی پر بس نہیں کیا کہ بگاڑ دُور کر دے بلکہ اس کتاب میں زائد باتیں بھی بیان کی ہیں۔نہ صرف پہلی کتابوں اور پہلے فلسفوں کی غلطیاں بتا ئیں بلکہ ایسی باتیں بھی بتائی ہیں جو اس سے پہلے فلسفیوں کے ذہن میں بھی نہیں آئیں اور وہ دو قسم کی ہیں۔ھدی وَرَحْمَةً لقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ۔ایک ھدی اور دوسری رحمت۔ہدایت کے معنے ہیں ذہنی اور عقلی ترقی کے سامان اور رحمت کے معنے ہیں عملی ترقی اور آرام و آسائش کے سامان۔گویا قرآن میں صرف ذہن کی ترقی کے سامان ہی نہیں بلکہ عملی ترقی کے سامان بھی ہیں اور یہی دو چیزیں ہوتی ہیں جن کے حاصل کرنے کے لئے تمام مذاہب اور تمام فلسفے کوشش کرتے ہیں۔یہ دونوں باتیں قرآن میں موجود ہیں۔اس میں ہدایت بھی ہے اور رحمت بھی۔