فضائل القرآن — Page 269
فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 269 تیل دال میں ڈال کر کھا جاتا تھا۔اُسے علمی الفاظ نہ آتے تھے لیکن جو کچھ اس نے کہا وہ علمی دلیل تھی۔جس کا مطلب یہ تھا کہ خدا تعالیٰ کی نصرت حضرت مرزا صاحب کے ساتھ ہے اور اُس کی لعنت تم پر پڑ رہی ہے۔غرض جب کوئی انسان خدا تعالیٰ کی جماعت میں داخل ہو جاتا ہے تو اُس کی عقل تیز ہو جاتی ہے اور وہ روحانیت کے باریک سے بار یک معارف بآسانی سمجھنے لگ جاتا ہے۔وہ قو میں جو یہ کہتی ہیں کہ ہم فلاں قسم کی باتیں نہیں سمجھ سکتیں اُن کی عقلی طاقتیں گر جاتی ہیں اور آہستہ آہستہ وہ موٹی باتیں سمجھنے سے بھی عاری ہو جاتی ہیں لیکن جن لوگوں کو روحانی اور علمی باتیں سنائی جاتی ہیں اور وہ انہیں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اُن میں سے نہ سمجھنے والوں میں بھی قابلیت پیدا ہو جاتی ہے اور پھر وہ سمجھنے لگ جاتے ہیں۔چنانچہ میں احمدیہ زمینداروں کے سامنے بھی علمی تقریر کرتا ہوا یہ خیال نہیں کرتا کہ اُن کی سمجھ میں نہ آئے گی لیکن کالجوں کے غیر احمدی طالب علموں کے سامنے بھی علمی تقریر کرتے ہوئے مجھے یہ خدشہ لگا رہتا ہے کہ شائد وہ میری باتیں نہ سمجھ سکیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ احمدی علمی اور روحانی تقریریں سننے کے عادی ہوتے ہیں لیکن دوسرے لوگ عادی نہیں ہوتے۔دین کی باتیں سنے کا عادی بنانے کے لئے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ بچہ کے پیدا ہوتے ہی اُس کے کان میں اذان دی جائے اگر اس طرح دین کی باتیں سمجھنے کی بچہ میں قابلیت پیدا ہوسکتی ہے تو احمدیوں کے سامنے علمی باتیں بیان کرنے سے وہ کیوں نہیں سمجھ سکتے۔اصل بات یہ ہے کہ لوگوں نے خود علوم کو مشکل بنا دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے لئے علوم بنائے ہیں اور ہر طبقہ کے لوگوں میں علوم کو مجھنے کی قابلیت رکھی ہے خواہ وہ زمیندار ہوں خواہ علمی کام کرنے والے اگر لوگ علوم کو خود مشکل نہ بنا دیتے تو کسی انسان کے لئے اُن کا سمجھنا مشکل نہ ہوتا۔اب ایک شخص جب یہ کہتا ہے کہ دلیل استقراء سے یہ بات ثابت ہے تو بہت لوگ کہہ دیتے ہیں ہمیں کیا معلوم دلیل استقراء کیا ہوتی ہے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ تمہارے باپ دادا مرتے چلے آئے ہیں یا نہیں تو ہر شخص اس بات کو سمجھ لے گا۔غرض خدا تعالٰی نے کسی علم کو مشکل نہیں بنایا۔علم کو لوگ الفاظ کے ذریعہ مشکل بنادیتے ہیں اگر لوگ میری تقریر کو بھی نہ سمجھیں گے تو اس میں میری غلطی ہوگی کہ میں نے ایسے الفاظ استعمال نہ کئے