فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 434

فضائل القرآن — Page 268

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ 268 نا واقف ہوں دین کی باتیں بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں کیونکہ انہیں آسمانی علوم میلا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ میں اسلام کے تازہ معجزات لایا ہوں اور اپنا مشاہدہ پیش کرتا ہوں مگر دوسرے لوگ قصے کہانیاں پیش کرتے ہیں۔اسی طرح آپ کی جماعت کو رُوحانی علوم کے متعلق مشاہدہ حاصل ہے اور آپ پر ایمان لانے کے دن ہی ہر احمدی کو نیا علم حاصل ہو جاتا ہے اور احمدیوں کو خدا تعالیٰ ہر قسم کے اعتراضات کے جواب آپ سمجھا دیتا ہے اگر کوئی تمسخر کرتا ہے تو اُسے بھی جواب مل جاتا ہے۔مولوی غلام رسول صاحب را جیکی نے سنایا کہ وہ ایک جگہ مباحثہ کے لئے گئے مباحثہ کے متعلق مخالف مولوی سے گفتگو ہورہی تھی کہ ایک احمدی کو رقعہ دیکر اُن مولوی صاحب کے پاس بھیجا گیا۔مولوی صاحب نے انہیں بے علم سمجھ کر چاہا کہ اُسے قابو میں لے آئیں۔اس خیال سے اس احمدی کو کہا دیکھو قرآن میں حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق رافِعُكَ ائی لکھا ہے یعنی او پر اُٹھانا اس لئے وہ فوت ہو ہی نہیں سکتے۔اس احمدی نے کہار افعك كی ف کے نیچے کیا ہے۔مولوی صاحب نے کہا زیر۔احمدی نے کہار افعك او پر تولے جاتا ہے مگر یہ زیر او پر نہیں جانے دیتی۔اس پر مولوی صاحب بالکل خاموش ہو گئے۔غرض جس رنگ میں دشمن چلتا ہے اُسی رنگ میں نا کام کرنے کے لئے خدا تعالیٰ احمدیوں کو سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ظاہری علوم سے بالکل ناواقف احمدی ایسے ایسے لطیف جواب دیتے ہیں کہ مخالف کے لئے خاموش ہوئے بغیر چارہ نہیں رہتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں آپ کا ایک خادم پیراں دیتا ہوا کرتا تھا۔بہت معمولی سمجھ کا انسان تھا مگر باوجود اس کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس رہنے کا اُس پر ایسا اثر تھا کہ ایک دفعہ بٹالہ تار لے کر گیا۔اُس زمانہ میں مولوی محمد حسین بٹالوی لوگوں کو قادیان آنے سے روکا کرتے تھے۔پیراں دیتا کو جو انہوں نے دیکھا تو اُسے پکڑ لیا اور کہنے لگے۔تو کہاں چلا گیا۔وہاں کیا رکھا ہے۔تمہیں وہاں نہیں رہنا چاہئے۔اس رنگ میں بہت کچھ کہا اُس نے کہا میں پڑھا لکھا تو ہوں نہیں اور نہیں جانتا کہ کیا بات ہے لیکن اتناضرور جانتا ہوں کہ مرزا صاحب اپنے گھر بیٹھے رہتے ہیں مگر دُور دُور سے لوگ آتے اور یوں کے دھکے کھا کھا کر اُن کے پاس پہنچتے ہیں اور تم یہاں دوڑے پھرتے ہو مگر کوئی تمہیں پوچھتا تک نہیں۔یہ ایک علمی دلیل ہے ایک مامور من اللہ کی صداقت کی جو ایک جاہل نے پیش کی۔ایسے جاہل نے جس کی یہ حالت تھی کہ چند آنے لے کر مٹی کا