فضائل القرآن — Page 267
267 فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ علمی نقار پیر کا فائدہ بعض دوستوں نے کہا ہے کہ آپ کا سالانہ جلسہ کاعلمی لیکچر ایسا ہوتا ہے کہ عام طور پر لوگ اسے سمجھ نہیں سکتے۔بہت سے لوگ صرف برکت حاصل کرنے کے لئے لیکچر میں بیٹھے رہتے ہیں۔اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ اگر وہ لوگ برکت حاصل کرنے کے لئے بیٹھے رہتے ہیں اور خدا تعالیٰ انہیں برکت دے دیتا ہے تو اس میں آپ کا کیا حرج ہے۔یہی غرض تو یہاں آنے کی ہوتی ہے۔جب وہ مل گئی چاہے لیکچر سمجھ کر اور چاہے نہ سمجھتے ہوئے مقصد تو حاصل ہو گیا۔پس اس پر کسی کو گلہ نہیں پیدا ہوسکتا۔دیکھو اگر خدا تعالیٰ کسی گناہگار کو باز پرس کئے بغیر جنت میں داخل کر دے تو کیا وہ جنت میں داخل ہونے سے انکار کر دیگا۔وہ تو فوراً آگے بڑھ کر جنت میں داخل ہو جائے گا۔اسی طرح جسے لیکچر میں بیٹھے رہنے سے برکت حاصل ہو جائے اسے اس بات کا کیا شکوہ ہوسکتا ہے کہ لیکچر میں جو کچھ بتایا گیا ہے اُسے وہ سمجھ نہیں سکا مگر میں سمجھتا ہوں یہ بات ہے بھی غلط۔اس لئے کہ ہماری جماعت کے دوستوں کے دماغ خدا تعالیٰ نے ایسے اعلیٰ درجہ پر پہنچا دیئے ہیں کہ اپنے ایک دوست کی طرف سے یہ بات سن کر کہ بعض لوگ لیکچر کو سمجھ نہیں سکتے مجھے بہت تعجب ہوا۔پچھلے دنوں مرکزی خلافت کمیٹی کے آرگن روزانہ اخبار خلافت نے ایک کانگرسی ہندو لیڈر کے یہ کہنے پر کہ مسلمان جاہل پسماندہ اور نا کافی تعلیم یافتہ ہیں اور ان کو کنٹرول کرنا آسان نہیں۔دنیا کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ حکومت کی باگ ڈور نا خواندہ فرقہ کے ہاتھ میں دی جانے لگی ہے۔“ لکھا تھا کہ اگر قادیان جیسے قصبہ کا ٹانگہ والا خالصہ اور دیانند کالج کے گریجوئیٹوں کے منہ بند نہ کر دے تو ہمارا ذمہ۔پھر مسلمان کبھی صوبہ کی آزادی طلب نہیں کریں گے۔اگر مخالفین کے نزدیک قادیان کے ٹانگہ چلانے والے کو اتنی قابلیت حاصل ہے تو پھر کس قدر تعجب کی بات ہے کہ اپنوں میں سے کوئی یہ کہے کہ احمدی میرے لیکچر کوسمجھ نہیں سکتے۔اصل بات یہ ہے کہ وہ تو لیکچر کو بخوبی سمجھتے ہیں مگر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ بعض احمدی لیکچر کونہیں سمجھ سکتے وہ اپنے بھائیوں کو نہیں سمجھتے۔انہوں نے اپنے متعلق تو حسن ظنی سے کام لیا کہ وہ خود لیکچر کوسمجھ سکتے ہیں لیکن دوسروں کے متعلق حسن د ظنی اختیار نہ کی اور کہہ دیا کہ وہ نہیں سمجھتے۔حالانکہ انبیاء پر ایمان لانے والے خواہ مروجہ علوم - سے