فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 434

فضائل القرآن — Page 264

فصائل القرآن نمبر ۵۰۰۰۰ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَيةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْصُهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبيثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا التَّوْرَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَةَ« أُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَيُحْيِ وَيُمِيتُ فَامِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُتِيَ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ (اعراف آیت ۱۵۹،۱۵۸) 264 اس کے بعد فرمایا :- کل کی تقریروں کے بعد میرا گلا شام تک تو اچھا تھا لیکن رات کو ملاقاتوں کے بعد گلا بیٹھ گیا۔۱۲ بجے کے قریب سردی لگنے کی وجہ سے بات کرنے میں تکلیف شروع ہوئی اور ایک بجے رات جب ملاقاتیں ختم ہو ئیں تو گلا بہت کچھ بیٹھا ہوا تھا۔اس لئے گوئیں اس وقت اونچی آواز سے نہیں بول سکتا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ تھوڑی دیر میں ہی حلق گرم ہونے کے بعد آواز بلند ہو جائے گی۔شروع میں ممکن ہے کہ تقریر کے بعض حصے احباب تک نہ پہنچ سکیں لیکن احباب کو صبر سے کام لینا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید رکھنی چاہئے کہ جبکہ وہ دُور دور سے کلمات حق سننے کے لئے یہاں آئے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اور اس سے امید رکھتے ہوئے میں حق کہنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں تو ہم دونوں پر وہ فضل فرمائے گا اور مجھے کہنے اور آپ لوگوں کو سننے کی توفیق عطا فرمائے گا۔دینی مجالس کی اہمیت مجھے افسوس ہے کہ بعض دوست گو وہ نہایت قلیل تعداد میں ہوتے ہیں۔باوجود سمجھانے کے پھر بھی مجلس سے اٹھ کر چلے جاتے اور باہر پھرتے رہتے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر جماعت میں کچھ نمائشی ممبر بھی ہوتے ہیں اور مجلس میں اپنی نمائش کرنے کے بعد جگہ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔