فضائل القرآن — Page 246
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 246 معاف کرے کہ معافی دینے پر ظلم بڑھ جائے تو اس سے خدا ناراض ہوگا کیونکہ وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔صدقہ و خیرات اور مرد و عورت کے تعلقات کے متعلق تفصیلی احکام گذشتہ سال کے مضمون میں بیان کر چکا ہوں اور بتا چکا ہوں کہ پہلی کتب میں ان امور کے متعلق صرف مختصر احکام دیئے گئے ہیں مگر قرآن کریم نے ہر ایک حکم کی غرض اور اس کے استعمال کی حدود وغیرہ تفصیل سے بیان کی ہیں۔دلائل و براہین سے مزین کلام قرآن کریم کی چوتھی خصوصیت یہ بیان کی کہ لاریب فِيهِ۔ہر ایک امر کو دلیل سے بیان کرتا ہے اور شک کی گنجائش نہیں چھوڑتا۔شک ہمیشہ ابہام سے پیدا ہوتا ہے مگر قرآن کریم کے دعوؤں کی بنیاد مشاہدہ پر ہے۔قرآن میں ہستی باری تعالیٰ ، ملائکہ، دعا، نبوت، انبیاء کی ضرورت ، قضاء وقدر، حشر ونشر، جنت و دوزخ، نماز و روزہ ، حج و زکوۃ اور معاملات وغیرہ کے متعلق دلائل بیان کئے گئے ہیں۔یونہی دعوے نہیں کئے گئے۔مثلاً جنت کے متعلق آتا ہے۔وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ 19 ہم یہ نہیں کہتے کہ مرنے کے بعد تمہیں جنت ملے گی اور تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مرنے کے بعد کیا معلوم جنت ملے گی یا نہیں۔قرآن اسی دنیا میں جنت کا ثبوت پیش کرتا ہے اور مومنوں کو اسی دنیا میں جنت حاصل ہو جاتی ہے۔اس کا ثبوت یہ دیا کہ إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَبِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ۔کے یعنی وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر استقامت سے اسلام کی تعلیم پر قائم رہتے ہیں۔ان پر فرشتے اترتے ہیں جو انہیں کہتے ہیں کہ تم غم نہ کرو تم کو جنت کی بشارت ہو۔گویا اسی دنیا میں انہیں خدا سے کلام کرنے کا شرف حاصل ہو جاتا ہے اور جب خدا کا کلام مل گیا تو ریب کہاں رہ گیا۔قرآن کریم کے ذریعہ صفت رَبُّ الْعَلَمِيْنَ کا ظہور پانچویں بات یہ بیان فرمائی کہ قرآن کریم کا اس حالت میں نزول ہوا کہ اس سے رب