فضائل القرآن — Page 247
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 247 العلمین کی صفت کا ظہور ہوتا ہے۔اس لئے کہ اس میں ہر فطرت کا لحاظ رکھا گیا ہے۔بعض انسانوں میں غصہ زیادہ ہوتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ انہیں عفو کی طرف توجہ دلائی جائے۔بعض میں دیوٹی اور بے غیرتی ہوتی ہے انہیں غیرت کی تعلیم دی گئی۔انجیل نے اس کا خیال نہیں رکھا اس نے ہر حال میں عفو کی تعلیم دی ہے اور تورات نے عفو کا خیال نہیں رکھا ہر حالت میں سزا دینے پر زور دیا ہے مگر قرآن نے دونوں قسم کے لوگوں کا خیال رکھا ہے۔پھر ہر زمانہ کا خیال رکھا ہے اور تمام دنیا کو دعوت دی ہے۔چنانچہ فرما یا قُل يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ٤٠ کہہ دے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔پس قرآن کریم سے پہلی کوئی کتاب ایسی نہیں جس نے ساری دنیا کو دعوت دی ہو۔انہوں نے دوسری قوموں کے لئے رستے بند کر دیے۔حضرت مسیح کا انجیل میں یہ قول موجود ہے کہ :- میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیٹروں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔اے اور یہ کہ :- لڑکوں کی روٹی لے کر کتوں کو ڈال دینی اچھی نہیں۔۷۲ گویا مسیح نے بنی اسرائیل کے سوا کسی اور کو ہدایت دینے سے انکار کر دیا۔مگر قرآن میں سب قوموں کے ماننے کے لئے خدا تعالیٰ نے سامان جمع کر دیئے۔مثلاً (1) سارے نبیوں کی تصدیق کی۔اس سے سب کے دلوں میں بشاشت پیدا کر دی لیکن اگر کوئی ہندو عیسائی ہو تو اسے یہ کہنا پڑتا ہے کہ بدھ اور کرشن جھوٹے ہیں اور اگر کوئی عیسائی ہندو ہو۔تو اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام کو جھوٹا قرار دینا پڑتا ہے مگر کتنی خوبی کی بات ہے کہ قرآن نے کہ دیا۔اِنَّا اَرْسَلْنَكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نذیر سے ہم نے اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تجھے حق کے ساتھ بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے اور کوئی قوم ایسی نہیں جس میں ہماری طرف سے نذیر نہ بھیجا گیا ہو۔اس بنا پر رسول کریم ستی ہیں کہ ہم نے تمام اقوام سے کہہ دیا کہ مجھے قبول کر کے تمہیں اپنے بزرگوں کو جھوٹا کہنے کی ضرورت نہیں۔وہ بھی سچے تھے۔ہاں ان میں اور مجھ میں یہ فرق ہے کہ ان کی تعلیم اس زمانہ کے لئے مکمل تھی جس میں وہ آئے