فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 434

فضائل القرآن — Page 244

فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 244 اول یہ کہ آنے والا نبی ایسی تعلیم دے گا جو مسیح تک کسی نے نہیں دی۔گویا وہ سب سے بڑھ کر تعلیم دے گا۔(۲) وہ ساری باتیں کہے گا یعنی کامل تعلیم دے گا اور اس کے بعد اور کوئی اس سے بڑھ کر تعلیم نہیں لائے گا۔(۳) وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہے گا بلکہ کلام اللہ لائے گا۔(۴) اس کلام اللہ میں آئندہ کی خبریں ہوں گی۔(۵) وہ کلام مجھے ( یعنی مسیح) پر دشمنوں کے عائد کر دہ الزامات کو دور کرے گا۔یہ سب باتیں رسول کریم سالی تا کہ ہم پر صادق آتی ہیں۔پہلی بات حضرت مسیح نے یہ فرمائی تھی کہ وہ نبی ایسی تعلیم لائے گا جو پہلے کوئی نہیں لایا۔قرآن کریم اس کے متعلق فرماتا ہے عَلَّمَ الْإِنْسَانِ مَالَمْ يَعْلَمُ یعنی قرآن کریم کے ذریعہ وہ وہ باتیں سکھائی گئی ہیں۔جو کسی اور کو معلوم نہیں۔دوسری بات حضرت مسیح نے یہ بیان کی تھی کہ وہ ساری باتیں بتائے گا۔قرآن کریم میں اس کے متعلق آتا ہے۔الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ آج سارا دین تم پر مکمل کر دیا گیا ہے۔پھر سورہ کہف رکوع ۸ میں آتا ہے۔وَلَقَد صَرَّفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِ مثل " ہم نے اس قرآن میں ہر ضروری بات کو مختلف پیرایوں میں بیان کر دیا ہے۔تیسری بات حضرت مسیح نے یہ بتائی تھی کہ وہ اپنی طرف سے کچھ نہ کہے گا بلکہ خدا تعالیٰ اسے جو کچھ بتائے گا اسے پیش کرے گا۔قرآن کریم میں بھی آتا ہے۔وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْى وخی ها یه رسول اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا بلکہ خدا ہی کا کلام پیش کرتا ہے۔باقی سب کتابوں میں انبیاء کی اپنی باتیں بھی ہیں۔صرف قرآن ہی ایک ایسا کلام ہے جو سارے کا سارا خدا کا کلام ہے۔پانچویں بات حضرت مسیح نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ نبی ان الزامات کو دور کرے گا جو مجھ پر لگائے جاتے ہیں۔اس کے متعلق سب لوگ جانتے ہیں کہ حضرت مسیح کو نَعُوذُ بِاللهِ وَلَدَ الزَّنَا کہا گیا تھا اور لعنتی قرار دیا گیا تھا۔قرآن نے ان الزامات کی پوری تردید کی۔