فضائل القرآن — Page 243
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 243 ہوں۔کیا تو وہ نبی ہے۔اس نے جواب دیا کہ نہیں۔“ اس طرح اعمال باب ۳ میں لکھا ہے کہ وہ نبی مسیح کی بعثت ثانی سے پہلے اور بعثت اوّل کے بعد ظاہر ہوگا بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ :- سموئیل سے لے کر پچھلوں تک جتنے نبیوں نے باتیں کیں ان سب نے ان دنوں کی خبر دی ہے۔‘۵۹ یہ پیشگوئی رسول کریم ملا ہی نہم کے ذریعہ پوری ہوئی کیونکہ آپ ان کے بھائیوں یعنی حضرت ابراہیم کے بیٹے حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے تھے۔اسی طرح یسعیاہ آنے والے نبی کی خبر دیتے ہوئے کہتے ہیں:۔جب قومیں تیری راستبازی اور سارے بادشاہ تیری شوکت دیکھیں گے اور تو ایک نئے نام سے کہلائے گا۔جسے خداوند کا مونہ خو درکھ دے گا۔سوائے اسلام کے دنیا میں کوئی مذہب نہیں جس کا نام خدا تعالیٰ نے رکھا ہو۔چنانچہ اسلام کے متعلق ہی فرمایا ہے۔وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا دوسری پیشگوئی بھی اسی کے ساتھ لکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ :۔تو آگے کو متروکہ نہ کہلائے گی اور تیری سرزمین کا کبھی پھر خرابہ نام نہ ہوگا بلکہ تو فیضیاہ کہلائے گا۔یہ پیشنگوئی بھی اسلام کے متعلق ہی ہے۔چنانچہ مکہ کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔من دَخَلَه كَانَ آمِنًا جو اس میں داخل ہو وہ امن میں آجاتا ہے۔پھر حضرت مسیح کہتے ہیں۔” مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنی ہیں مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔اب دیکھو اس میں کتنی علامتیں رسول کریم سلانا ہی ہم کی بیان کی گئی ہیں۔