فضائل القرآن — Page 242
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 242 اب بھی پناہ میں آ جاؤ۔حضرت عثمان نے کہا پناہ کیسی۔میری تو دوسری آنکھ بھی انتظار کر رہی ہے کہ خدا تعالی کی راہ میں نکلے۔ان کے فوت ہونے پر رسول کریم صلی ایم نے انہیں بوسہ دیا اور آپ کی آنکھوں سے اس وقت آنسو جاری تھے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاحبزادہ ابراہیم فوت ہوا تو آپ نے فرمایا حق بِسَلْفِنَا الصَّالح عُثْمَانَ بْنِ مَطْعُونِ ۵۶ یعنی ہمارے صالح عزیز عثمان بن مظعون کی صحبت میں جا۔پہلی کتب کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے والی کتاب دوسرا دعوی قرآن کریم کے متعلق یہ کیا گیا ہے کہ یہ پہلی کتب کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے والی کتاب ہے۔چنانچہ استثناء باب ۱۸ آیت ۱۵ میں آتا ہے۔خداوند تیرا خدا تیرے لئے۔تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی بر پا کرے گا۔‘۵۷ اس میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ وہ نبی جو آنے والا ہے وہ بنی اسرائیل میں سے نہیں ہوگا بلکہ ان کے بھائیوں یعنی بنی اسماعیل میں سے ہوگا گویا وہ اولا دابراہیم علیہ السلام میں سے ہی ہوگا نہ کہ کسی غیر قوم سے پھر اس کی علامت یہ بتائی کہ:- جب وہ نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اس نے کہا ہے واقع نہ ہو یا پورانہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی۔‘۵۸۰ اب دیکھو قرآن کی باتیں کیسی پوری ہوئیں اور اس کی بیان کردہ پیشگوئیاں کس طرح سچی نکلیں۔کفار نے جب رسول کریم منا یا ستم کے متعلق کہا کہ اس کی اولاد نہیں تو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہم اسے اولاد دیں گے اور ابتر کہنے والوں کی اولا دہی چھین کر دے دیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یہ پیشگوئی بڑی شان سے پوری ہوئی۔حضرت مسیح نے اس پیشگوئی کا مصداق ہونے سے انکار کیا ہے۔چنانچہ یوحنا باب ۱ آیت ۲۱ میں لکھا ہے :- انہوں نے اس سے پوچھا۔پھر کون ہے۔کیا تو ایلیاہ ہے۔اس نے کہا۔میں نہیں