فضائل القرآن — Page 216
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰ 216 تھپڑ مارے گا لیکن عقلمند برداشت کر لے گا۔اگر یہ لوگ تجھے پاگل سمجھتے تو تیری مجلس میں آکر تجھے پاگل نہ کہتے بلکہ تجھ سے دور بھاگتے۔یہ جو تیرے سامنے تجھے پاگل کہتے ہیں یہی ثبوت ہے اس بات کا کہ تو پاگل نہیں ہے اور آئندہ آنے والوں کے لئے یہ ثبوت ہے کہ یہ پاگل کہنے والوں کے متعلق تو یہ تعلیم دیتا ہے کہ ان کے برا بھلا کہنے پر چپ رہو۔کیا ایسا بھی کوئی پاگل ہوتا ہے جو صرف آپ ہی پاگل کہنے والوں کے مقابلہ میں اپنے جوش کو نہ دبائے بلکہ آئندہ نسلوں کو بھی یہ ہدایت کر جائے کہ مخالفوں کو برا بھلا نہ کہنا۔فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ پس عنقریب تو بھی دیکھ لے گا اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ باتِكُمُ الْمَفْتُونُ تم دونوں میں سے کون گمراہ ہے۔اس دلیل میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ پاگل کو کبھی خدائی مدد نہیں ملتی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی مدد سے کامیاب ہورہے ہیں پھر ان کو پاگل کس طرح قرار دیا جاسکتا ہے۔دوسرا اعتراض دوسرا اعتراض رسول کریم سنی ہی پتھر پر اس حالت میں کیا گیا جب مخالفین نے دیکھا کہ پاگل کہنے پر عقلمند لوگ خود ہمیں پاگل کہیں گے۔جب وہ یہ دیکھیں گے کہ جسے پاگل کہتے ہیں اس نے تو نہ کسی کو مارا ہے نہ پیٹا بلکہ نہایت اعلیٰ درجہ کے اخلاق دکھائے ہیں۔پس انہوں نے سوچا کہ کوئی اور بات بناؤ۔اس پر انہوں نے کہا۔اسے پریشان خوابیں آتی ہیں اور ان کی وجہ سے دعوی کر بیٹھا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ان کے اس اعتراض کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔بل قَالُوا أَضْغَاتُ أَحْلَاءِ نا کہتے ہیں اس کا کلام أَضْغَاتُ أَحْلامٍ ہے کچھ مشتبہ ہی خواہیں ہیں جواسے آتی ہیں یعنی آدمی تو اچھا ہے۔اس کی بعض باتیں پوری بھی ہو جاتی ہیں لیکن بعض بڑی باتیں بھی اسے دکھائی دیتی ہیں۔جنون اور أَضْغَاتُ احلام میں یہ فرق ہے کہ جنون میں بیداری میں دماغی نقص پیدا ہو جاتا ہے لیکن أَضْغَاتُ میں نیند میں دماغی نقص پیدا ہو جاتا ہے۔چونکہ مخالفین دیکھتے تھے کہ رسول کریم سیا ستم کے معاملات میں کوئی نقص نہیں اس لئے کہتے کہ جنون سے مراد ظاہری جنون نہیں بلکہ خواب میں اسے ایسی باتیں نظر آتی ہیں۔اس کا جواب قرآن کریم یہ دیتا ہے کہ لَقَد أَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَبًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ جن لوگوں کو أَضْغَاتُ۔