فضائل القرآن — Page 215
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 215 وَيُبْصِرُونَ بِايْكُمُ الْمَفْتُونُ 1 لوگ تجھے پاگل کہتے ہیں مگر ہم دوات اور قلم کو تیری سچائی کے لئے شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔پاگل آخر کسے کہتے ہیں اسے جس کی عقل عام انسانوں کی عقل کی سطح سے نیچے ہوتی ہے۔ورنہ پاگلوں میں بھی کچھ نہ کچھ عقل تو ہوتی ہے۔وہ کھانا کھاتے اور کپڑا پہنتے اور پانی پیتے ہیں۔پاگل انہیں اس لئے کہتے ہیں کہ ادنی معیار عقل جو قرار دیا جاتا ہے، اس سے ان کی عقل کم ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ رسول کریم صلی یہ یمن کو پاگل کہنے والوں کے متعلق فرماتا ہے تم اسے پاگل کہتے ہو مگر سب سے زیادہ عقلمند لکھنے پڑھنے والے عالم سمجھے جاتے ہیں اور مصنفین کو بڑا دانا تسلیم کیا جاتا ہے۔ہم کہتے ہیں ان عقلمندوں کی باتیں مقابلہ کے لئے لاؤ۔دنیا کی تمام کتا ہیں جواب تک لکھی جاچکی ہیں انہیں اکٹھا کر کے لاؤ۔یہ نہیں فرمایا کہ جو اپنی طرف سے لوگوں نے لکھی ہیں بلکہ فرمایا جو لکھی گئی ہیں۔گویا مذہبی اور آسمانی کتابیں بھی لے آؤ۔یا اعلیٰ درجہ کے علوم کی کتابیں جو لائبریریوں میں محفوظ رکھی جاتی ہیں وہ نکال کر لاؤ۔اگر یہ سب کی سب کتا ہیں اس کے مقابلہ میں بیچ ثابت ہوں تو انہیں مانا چاہئے کہ مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونِ الله تعالى سے فضل سے تو مجنون نہیں ہے۔دیکھو! یہ کتنا بڑا دھوئی ہے اور کتنی زبر دست دلیل ہے۔یہ اس زمانہ کے لوگوں کو دلیل دی اور بعد میں آنے والوں کو یہ دلیل دی کہ وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ آئندہ بھی جولوگ تجھے پاگل کہیں گے ہم انہیں کہیں گے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اب تو تمہارے سامنے نہیں مگر اس کے کارناموں کے نتائج تمہارے سامنے ہیں۔پاگل جو کام کرتا ہے اس کی کوئی جز انہیں ہوتی۔کیا جب کوئی پاگل بادشاہ بن جاتا ہے تو اسے کوئی ٹیکس ادا کیا کرتا ہے یا ڈاکٹر بن جاتا ہے تو کوئی اس سے علاج کراتا ہے یا کوئی نبی بنتا ہے تو کوئی اس کا مرید بنتا ہے؟ مگر رسول کریم سنتی اینم کے متعلق فرمایا کہ ہم اس کے کاموں کا وہ اجر دیں گے جو بھی کاٹا نہیں جائے گا۔کوئی زمانہ ایسا نہیں آئے گا جب اس کے اعمال کا اجر نہ مل رہا ہو گا۔جب بھی کوئی پاگل ہونے کا اعتراض کرے اس کے سامنے یہ بات رکھ دی جائے کہ پاگل کے کام کا تو نتیجہ اس وقت بھی نہیں نکلتا جب وہ کر رہا ہوتا ہے مگر رسول کریم میں اسلام کے متعلق دیکھو کہ کئی سو سال گذر جانے کے بعد بھی نتائج نکل رہے ہیں۔پھر فرمایا ہم ایک اور بات بتاتے ہیں۔وَاِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ۔پاگل کو پاگل کہوتو وہ