فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 434

فضائل القرآن — Page 214

فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ مخالفین اسلام کے اعتراضات کارڈ 214 اس کے بعد میں ان بعض اعتراضات کو لیتا ہوں جو رسول کریم صلی نے یتیم کی ذات پر کئے گئے ہیں اور بتاتا ہوں کہ کس طرح قرآن کریم نے ان کو ر ڈ کر کے آپ کے بے عیب اور کامل ہونے کو ثابت کیا ہے کیونکہ قرآن نے رسول کریم صلم کی پاکیزگی ثابت کرنے کا فرض خود اپنے ذمہ لیا ہے، کسی بندہ پر نہیں چھوڑا۔پہلا اعتراض جو رسول کریم ملی تا پریتم کی زندگی پر ہوسکتا تھا وہ یہ ہے کہ آپ کے دعوی کے موجبات و محرکات کیا تھے؟ یا یہ کہ قرآن پیش کرنے کا اصل باعث کیا تھا؟ کوئی کہتا آپ نعُوذُ باللہ پاگل ہیں۔کوئی کہتا اُسے جھوٹی خوا میں آتی ہیں۔کوئی کہتا ساحر ہیں۔کوئی کہتا جھوٹ بولتے ہیں۔کوئی کہتا کا ہن ہیں۔غرض مختلف قسم کے خیالات لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوئے۔یہی خیالات آج تک چلتے چلے آتے ہیں۔جب بھی کوئی مصنف رسول کریم صلای سی یتیم کے خلاف لکھتا ہے تو یہی کہتا ہے آپ جھوٹے تھے اور کوئی کہتا ہے کہ نَعُوذُ باللہ آپ مجنون تھے۔پہلا اعتراض میں سب سے پہلے جنون کے اعتراض کو لیتا ہوں۔چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اتنی پاکیزہ تھی کہ منکر اس کے متعلق کوئی حرف گیری نہیں کر سکتے تھے اس لئے جب آپ کا کلام سنتے تو یہ نہ کہہ سکتے کہ آپ جھوٹے ہیں بلکہ یہ کہتے کہ پاگل ہے۔چونکہ مشرکانہ خیالات ان لوگوں کے دلوں میں گڑے ہوئے تھے ادھر وہ سمجھتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) جھوٹ نہیں بول سکتے اس لئے ان دونوں باتوں کے تصادم سے یہ خیال پیدا ہو جاتا کہ اس کی عقل ماری گئی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَقَالُوا يَأَيُّهَا الَّذِي نُزِلَ عَلَيْهِ الذِكُرُ اِنَّكَ لَمَجْنُونَ كلجب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پیش کیا تو لوگوں نے حیران ہو کر کہ اب کس طرح انکار کریں یہ کہہ دیا کہ ے وہ شخص جو کہتا ہے کہ مجھ پر خدا کا کلام اُترا ہے تیرا دماغ پھر گیا ہے اور تو پاگل ہو گیا ہے۔اس کا جواب قرآن کریم میں اس طرح دیا گیا ہے کہ ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ ربَّكَ بِمَجْنُونٍ وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ فَسَتُبْصِرُ