فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 434

فضائل القرآن — Page 213

فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ سکتے تھے۔213 رسول کریم این ایم کی اتباع میں خدا تعالیٰ کا قرب نبوت کی زندگی کے متعلق ہم قرآن کریم میں لکھا ہوا دیکھتے ہیں کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ ها یہ رسول اس بات کا اعلیٰ نمونہ ہے کہ قرآن نے اس کی زندگی پر کیا اثر کیا اور یہ کسی ایک قوم یا ایک ملک کے لئے نہیں بلکہ ساری دنیا کے لئے نمونہ ہے۔جس کی انہیں پیروی کرنی چاہئے۔ممکن ہے کوئی کہے کہ باقی انبیاء بھی ایسے ہی ہو نگے۔اس لئے قرآن کی ایک اور آیت میں پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونى يُحببكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ لا یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تو ان سے کہہ دے ( یہ الفاظ بھی رسول کریم صلی نے یتیم کی کتنی شان بلند کا اظہار کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ رسول کریم صلی ای ایم کے منہ سے کہلواتا ہے تا کہ دنیا کے لئے ایک چیلنج ہو۔گو یا اللہ تعالیٰ نے دنیا کو ایک چیلنج دیا اور کہا ان سے کہو ) اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو اور تمہارے دل میں تڑپ ہے کہ اس کے محبوب بن جاؤ تو آؤ میں تمہیں ایسا گر بتاؤں کہ تم عاشق ہو کر معشوق بن جاؤ اور وہ یہ ہے کہ فَاتَّبِعُونِی جس طرح میں کام کرتا ہوں تم بھی کرو۔یہاں أطِيعُونِی نہیں فرمایا بلکہ فاتبعونی فرمایا ہے یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے محبوب بننا چاہتے ہو تو جیسے محمد رسول اللہ سی سی پر عمل کر رہے ہیں ویسے ہی تم بھی کرو۔یہ نہیں فرمایا کہ محمدرسول اللہ لا ہے کہ ہم جوحکم دیں اس کی تعمیل کرو۔اس جگہ اتباع کا لفظ ہے جس کے معنی قیفی اثرہ“ کے ہوتے ہے یعنی اس کے نقش قدم پر چلا۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے لئے اطاعت کا لفظ تو آتا ہے مگر اتباع کا نہیں کیونکہ اللہ تعالی شرائع سے بالا ہے لیکن رسول کے لئے اتباع اور اطاعت دونوں الفاظ آتے ہیں یعنی وہ حکم بھی دیتا ہے اور ان پر خود بھی عمل کرتا ہے۔پس فاتبعونی کے یہ معنی ہیں کہ رسول کریم سی لا الہ یام فرماتے ہیں کہ میں اطاعت الہی سے محبوب الہی بن گیا ہوں۔اگر تم بھی میرے جیسے کام کرو گے تو تم بھی محبوب الہی بن جاؤ گے۔گویا خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کا دوسرا نام رسول کریم صلی ا یتیم کے اعمال رکھا ہے۔