فضائل القرآن — Page 208
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 208 کریم سنی ہی ہم اپنے دوسرے الہامات یا کشوف یار و یا یا تفہیم اس میں داخل ہی نہ کرتے تھے جس کا اثر صحابہ پر گہرا پڑا اور وہ محسوس کرتے تھے کہ اس کتاب میں کوئی اور بات نہیں ہونی چاہئے حتی کہ طرز تحریر اور وقف تک کو انہوں نے محفوظ رکھا اور اس طرح بوجہ کلام اللہ ہونے کے قرآن کریم ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گیا۔یہ امر کہ قرآن کریم کے کلام اللہ ہونے کا اثر اس کے تبدیل نہ ہونے پر خاص طور پر پڑا ہے مخالفوں تک نے تسلیم کیا ہے۔چنانچہ سرولیم میورلکھتا ہے۔A similar guarantee existed in the feelings of the people at large, in whose soul no principle was more deeply rooted than an awful reverence for the supposed word of God۔یعنی قرآن کریم کے محفوظ رہنے کی یہ بھی گارنٹی ہے کہ ہر مسلمان کے دل میں یہ بات نقش تھی کہ قرآن کا ہر شوشہ اور ہر لفظ خدا کی طرف سے ہے۔دوسرا فائدہ کلام اللہ کے اس طرح جمع کرنے کا یہ ہوا کہ اس میں تاریخ اور تفہیم آہی نہیں سکتی۔مثلاً قرآن میں یہ نہیں لکھا۔کہ میں فلاں جگہ گیا اور وہاں یہ الہام ہوا بلکہ اس کی عبارت اس طرح چلتی ہے کہ ہر لفظ بتاتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے۔اس لئے بندہ اس میں کوئی اور کلام داخل ہی نہیں کر سکتا اور اگر کرے تو بالکل بے جوڑ معلوم ہوگا لیکن پہلی کتب میں چونکہ تفہیم بھی درج تھی اس لئے کسی کا تفہیم کو درج کرنا غلطی کو ظاہر نہیں ہونے دیتا تھا۔کلام اللہ کے نام میں منفرد کتاب صرف قرآن کریم ہے غرض قرآن کریم کلام اللہ کے نام میں منفرد ہے۔جس طرح کعبہ بیت اللہ کے نام میں دوسرے بیوت سے منفرد ہے۔خدا تعالیٰ نے خانہ کعبہ کو بیت اللہ قرار دیا ہے اور قرآن کو کلام اللہ قرار دیا ہے۔کعبہ کو بھی یہ نام اس لئے دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے بنوایا تھا۔اگر دوسرے مقامات کو بھی خدا تعالیٰ بنواتا تو وہ منسوخ نہ ہوتے۔چونکہ دوسرے گھروں نے منسوخ ہونا تھا اس