فضائل القرآن — Page 209
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 209 لئے انہیں یہ نام نہ دیا گیا۔اسی طرح قرآن کریم نے بھی چونکہ ہمیشہ قائم رہنا تھا، اسے بھی کلام اللہ کی صورت میں نازل کیا گیا اور اسے یہ نام دیا گیا تا کوئی اپنا کلام اس میں داخل نہ کر سکے۔اگر کوئی کہے کہ آپ تو کہتے ہیں قرآن میں ساری شریعت موجود ہے مگر یہ درست نہیں کیونکہ قرآن بھی سنت اور حدیث کا محتاج ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ سنت کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن میں جو باتیں آئی ہیں رسول کریم مایا تم نے ان پر عمل کر کے دکھا دیا اور احادیث رسول کریم میں یہ ایم کی تفہیمات ہیں جو قرآن سے ہی حاصل ہوئیں کوئی زائد شئے نہیں۔خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحَى يُوخى كه محمد رسول اللہ سی پیہم دین کی کوئی بات اپنی طرف سے نہیں کہتے بلکہ جو کچھ بتاتے ہیں وحی الہی سے بتاتے ہیں۔پس حدیث میں جو کچھ ہے وہ قرآن ہی کی تشریح اور تفہیم ہے۔قرآن کریم کی افضلیت کی آٹھویں دلیل اب میں قرآن کریم کی فضیلت کی آٹھویں دلیل بیان کرتا ہوں جو یہ ہے کہ ہر کلام جو نازل ہوتا ہے، اس کی عظمت اور افضلیت اس لانے والے کے ساتھ بھی تعلق رکھتی ہے جس کے ذریعے وہ آتا ہے کیونکہ پیغامبر پیغام کی حیثیت سے بھیجے جاتے ہیں۔مثلاً ایک بادشاہ جس نے اپنے کمرہ کی صفائی کرانی ہے وہ چوبدار سے کہے گا کہ صفائی کرنے والے کو بلا ؤ لیکن اگر اسے یہ کہنا ہوگا کہ فلاں بادشاہ کو ملاقات کے لئے بلاؤ تو چو ہدار سے نہیں کہے گا بلکہ وزیر سے کہے گا اور وہ یہ پیغام پہنچائے گا کہ بادشاہ کی خواہش ہے کہ آپ سے ملاقات کریں۔غرض پیغام کی افضلیت پیغامبر کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔سفراء جو بادشاہوں کے خطوط لے کر جاتے ہیں ان کے متعلق بھی یہ دیکھا جاتا ہے کہ بلند پایہ رکھنے والے ہوں۔اسی طرح اعلیٰ درجہ کے کلام کو سمجھانے کے لئے اعلیٰ درجہ کے علم کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر کوئی کتاب علمی لحاظ سے بہت بلند مرتبہ رکھتی ہو تو اس کو پڑھانے والے کے لئے بھی اعلی تعلیم کی ضرورت ہوگی۔ایم۔اے کے طلباء کو پڑھانے والا معمولی قابلیت کا آدمی نہیں ہوسکتا۔اگر کسی جگہ کوئی پرائمری پاس پڑھانے کے لئے بھیجا جائے تو سمجھا جائے گا کہ ابتدائی قاعدہ پڑھایا جائے گا۔