فضائل القرآن — Page 205
فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 205 لیکن ہم اسے کلام اللہ نہیں کہ سکتے کیونکہ وہ سب کی سب کلام اللہ نہیں بلکہ اس میں ایک حد تک کلام بشر بھی ہے گو مضمون سب کا سب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس وجہ سے وہ کتاب کتاب اللہ اب اس فرق کو مد نظر رکھ کر دیکھ لو۔دنیا کی کوئی کتاب خواہ کسی قوم کی ہو اور کس قدر ہی شد و نڈ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کی جاتی ہو کلام اللہ نہیں ہو سکتی کیونکہ ایک بھی ایسی کتاب نہیں نہ موجودہ صورت میں اور نہ اس صورت میں جس طرح کسی نبی نے دی تھی کہ اس کے تمام کے تمام الفاظ خدا تعالی کے ہوں۔اس میں بعض الفاظ خدا تعالیٰ کے ہونگے بعض نظارے ہو نگے اور بعض مفہوم بیان کئے گئے ہونگے۔اگر آج ہم تو رات سے ان زوائد کو نکال دیں جو یہودیوں نے اپنی طرف سے ملا دیئے ہیں۔مثلاً اس میں لکھا ہے کہ۔سوخداوند کا بندہ موسی خداوند کے حکم کے موافق موآب کی سرزمین میں مر گیا اور اس نے اسے موآب کی ایک وادی میں بیت فغور کے مقابل گاڑا ہو کے تب بھی تو رات کلام اللہ نہ ہوگی کیونکہ اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ۔اس وقت خداوند کا فرشتہ ایک بوٹے میں آگ کے شعلے میں اس پر ظاہر ہوا۔اس نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک بوٹا آگ میں روشن ہے اور وہ جل نہیں جاتا۔یہی حال حضرت عیسی اور باقی انبیاء کی کتابوں کا ہے۔پس اگر ان کتب میں سے ہم ان زوائد کو نکال بھی دیں جو بعد میں لوگوں نے داخل کر دیئے ہیں تو بھی حضرت موسی کی کتاب اس وقت جب کہ حضرت موسی نے اسے ترتیب دیا اور حضرت عیسی کی کتاب اس وقت جب کہ حضرت عیسی نے اسے بیان کیا اور وید جب کہ وہ نازل ہوئے کلام اللہ نہ تھے۔اگر دوسروں کی باتیں ان میں نہ تھیں تو رسولوں کی اپنی باتیں تو ضرور تھیں۔غرض اپنی سلامتی کے زمانہ میں بھی وہ کلام اللہ نہیں تھیں۔یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ کیا فضیلت ہے۔اگر حضرت موسیٰ چاہتے تو وہ بھی کلام اللہ کو الگ جمع کر سکتے تھے۔اگر تورات سے حضرت موسیٰ کا کلام اور انجیل سے حضرت عیسی کا کلام نکال لیا جائے تو کیا یہ کتابیں قرآن کریم کے برابر ہو جائیں گی؟ میں کہوں گا نہیں کیونکہ اگر حضرت موسئی ایسا کر سکتے تو کیوں نہ کر دیتے۔اگر حضرت موسی کے لئے ممکن ہوتا کہ الفاظ والی وحی کو الگ کر کے کتاب بنا