فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 434

فضائل القرآن — Page 201

فصائل القرآن نمبر ۴۰۰۰۰ 201 فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلمَ اللهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُونَ ، خدا تعالی فرماتا ہے۔اے رسول ! اگر مشرکوں میں سے کوئی شخص تجھ سے پناہ مانگے تو تو اُسے پناہ دے۔حَتَّى يَسْمَعَ كَلام الله یہاں تک کہ تیری صحبت میں رہ کر وہ کلام اللہ سن لے۔ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ پھر اسے امن کی جگہ پہنچا دو۔ذلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُونَ۔یہ اس لئے حکم دیا گیا ہے کہ وہ قوم دین کا علم نہیں رکھتی اور جب تک علم دین حاصل نہ کرے گی کس طرح دین سیکھ سکے گی۔گو کفار کے ساتھ لڑائی ہے۔وہ تم سے جنگ کر رہے ہیں اور جنگ کی حالت میں غیر کو مارنے کا تمہیں حق حاصل ہے لیکن چونکہ تم مذہبی پیشوا ہو اس لئے ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ حکومتوں کے دستور کے خلاف اگر کوئی غیر قوم کا فرد تمہارے پاس آئے اور کلام اللہ سنا چاہے تو اُسے سناؤ۔اگر وہ نہ مانے اور واپس جانا چاہے تو اسے واپس پہنچا دو اُسے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔دوسری جگہ آتا ہے۔افَتَطْمَعُونَ أَن يُؤْمِنُوا لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلمَ اللهِ ثُمَّ يُحْرِفُونَهُ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ، فرمایا۔اے مسلمانو ! کیا تم اس بات کی امید رکھتے ہو کہ وہ تمہاری باتیں مان لیں گے۔بعض صحابہ سمجھتے تھے کہ یہود ہماری باتیں مان لیں گے۔ان کے ساتھ مسلمانوں کی دوستیاں تھیں، تعلقات تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کیا تمہاری ایسی دوستی ہے کہ وہ تمہاری بات مان لیں گے حالانکہ ان میں سے ایک جماعت آتی ہے۔قرآن سنتی ہے۔پھر يُحْرِفُونَهُ مِنْ بَعْدِمَا عَقَلُوْهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ اس کا مفہوم سمجھنے کے بعد اور بات بنا لیتی ہے جو جھوٹ ہوتی ہے۔حالانکہ وہ لوگ جانتے ہیں کہ جھوٹ بول رہے ہیں۔جب قرآن کے متعلق ان کا یہ حال ہے تو تمہاری باتیں کہاں مان سکتے ہیں۔بعض نے یہاں کلام اللہ سے تو رات مراد لی ہے مگر رسول کریم سال بیا اینم کے زمانہ میں کون سے ایسے یہودی علماء تھے کہ جن کی تحریف کوئی اثر رکھتی تھی۔معمولی درجہ کے لوگ تھے۔اگر کوئی سردار تھا تو محلہ کے سردار سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا تھا۔اس لئے مدینہ کے یہود کو خیال بھی نہیں آسکتا تھا۔کہ اگر وہ تو رات کو بدل کر پیش کریں گے تو لوگ مان لیں گے۔وہ یہی کرتے تھے کہ رسول کریم سیلم کی صحبت میں آتے۔قرآن کریم سنتے اور پھر بالکل جھوٹی باتیں جا کر بیان کرتے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور قادیان کے متعلق لوگ غلط بیانیاں کرتے تھے۔