فضائل القرآن — Page 191
191 فصائل القرآن نمبر۔۔۔علیہ وسلم ابھی مکہ میں تھے اور جب قرآن کے بگڑنے کا کوئی سوال ہی نہ تھا۔سفرة کے ایک معنی جھاڑو دینے اور پردہ اُٹھا دینے کے بھی ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے آیت کے یہ معنی ہونگے کہ اس کتاب کو ایسے لوگوں کے سپرد کیا گیا ہے جو اس خس و خاشاک کو جو تعلیم قرآن پر پڑ کر اسے مسخ کر دینے کا موجب ہو سکتا تھا دور کرتے رہیں گے اور پھر اس کی تعلیم کو اس کی اصلی حالت پر لاتے رہیں گے اور جو اس کے پوشیدہ مطالب کو ظاہر کرتے رہیں گے اور اس کے بلند مطالب کولوگوں کے سامنے لاکر اس کی قبولیت اور تاثیر کو تازہ کرتے رہا کریں گے جو اس فن کے لوگوں میں کیرام ہوں گے۔یعنی ماہرین فن ہونگے اور بررة ہونگے یعنی امور خیر میں وسیع دسترس رکھنے والے ہونگے اور اس طرح وہ نہ صرف خود خدمت کریں گے بلکہ اور بہت سے خادم بنا کر چھوڑ جائیں گے۔لطیفہ یہ ہے کہ اس آیت میں تین ہی صفات کتاب کی اور تین ہی کتاب کے حاملوں کی بیان ہوئی ہیں لیکن کرام کے سوا جو دونوں میں متحد ہے باقی دونوں صفات میں فرق ہے۔کتاب کے لئے مَرْفُوعَة اور مُطَهَّرَة فرمایا ہے اور انسانوں کے لئے سَفَرَة بَرَرة۔لیکن اگر ہم غور کریں تو در حقیقت اس اختلاف میں بھی اتحاد ہے۔سَفَرَة کا جوڑا مَرْفُوعَة سے ہے کیونکہ اونچی چیز اوجھل ہوتی ہے اور سفر کے معنی خفاء کو دور کرنے کے ہوتے ہیں۔چنانچہ جب سَفَرَتِ الريح الحَ عَن وَجهِ السَّمَاءِ کہیں تو اس کے معنی ہوتے ہیں كَشَفَته یعنی ہوا نے گرد و غبار کو اڑا کر مطلع صاف کر دیا۔اسی طرح مطقرة کے مقابلہ میں بررة فرمایا ہے کیونکہ مُطهَّرة کے معنی ہیں جس میں طہارت کے سب سامان ہوں اور بررة کے معنی بھی یہی ہیں کہ جن میں سب اصول خیر ہوں۔پس کتاب کی تینوں صفات کے مقابلہ میں ویسی ہی تین صفات والے انسانوں کا ذکر کیا جو اس کی حفاظت کریں گے۔الله الله !! کیسا زبردست دعویٰ ہے اور کس طرح اس دعوی کو زبر دست طاقتوں سے پورا کیا گیا ہے۔سب سے پہلا قدم غلطی کی طرف رسول کریم میان نیا اینم کی وفات پر اٹھنے لگا تھا جب کہ آپ کی وفات میں شبہ پیدا ہوگیا اور گویا آپ کو خدائی کا مقام ملنے لگا تھا مگر خدا تعالیٰ نے سورۃ نور کی آیت استخلاف کے ماتحت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کھڑا کر کے یہ اختلاف دور کر دیا۔انہوں نے قرآن کریم ہی کی یہ آیت پیش کی کہ وَمَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ) اور