فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 434

فضائل القرآن — Page 172

فصائل القرآن نمبر۔۔۔۔172 ایک نئی پیدائش حاصل ہو جاتی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کا مقترب بن جاتا ہے۔یہ روحانی علم النفس کا ایک وسیع مسئلہ ہے کہ انسان کے جتنے اخلاق ہیں ان میں سے بعض رجولیت کی قوت سے تعلق رکھتے ہیں اور بعض نسائیت کی قوت سے۔جب یہ دونوں آپس میں ملتے ہیں تب اعلیٰ اخلاق پیدا ہوتے ہیں مگر یہ مضمون چونکہ اس وقت میرے ساتھ تعلق نہیں رکھتا اس لئے میں نے اس کی طرف صرف اشارہ کر دیا ہے۔مرد و عورت میں مودت کا مادہ دوسری بات خدا تعالٰی نے یہ بتائی کہ وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً اس ذریعہ سے تم میں مَوَدَّت پیدا کی گئی ہے۔مَوَدَّت محبت کو کہتے ہیں لیکن اگر اس کے استعمال اور اس کے معنوں پر ہم غور کریں تو محبت اور مودت میں ایک فرق پایا جاتا ہے اور وہ یہ کہ مودت اس محبت کو کہتے ہیں جو دوسرے کو اپنے اندر جذب کر لینے کی طاقت رکھتی ہے لیکن محبت میں یہ شرط نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ مودت کا لفظ بندوں کی آپس کی محبت کے متعلق استعمال کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مرد عورت کو اور عورت مرد کو جیت لینا چاہتی ہے۔ان میں سے جو دوسرے کو جیت لیتا ہے وہ مرد ہوتا ہے اور جسے جیت لیا جاتا ہے وہ عورت ہوتی ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کے لئے یہ لفظ نہیں رکھا گیا کیونکہ بندہ کی کیا طاقت ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کو جذب کر سکے۔چنانچہ قرآن کریم میں یہ نہیں آیا کہ بندہ خدا کے لئے ودود ہے مگر خدا تعالیٰ کے لئے آیا ہے کہ وہ وَ دُود ہے۔وہ بندہ کو جذب کر لیتا ہے مگر مرد و عورت کے لئے مودةً کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔چونکہ انسانوں کو کامل کرنا مقصود تھا اس لئے خدا تعالٰی نے ایسے احساسات مرد اور عورت میں رکھے کہ مرد چاہتا ہے عورت کو جذب کرے اور عورت چاہتی ہے مرد کو جذب کرے لیکن خدا تعالیٰ کو بندہ جذب نہیں کر سکتا۔اس لئے بندوں کے لئے يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَةَ هيا اَشَدُّ حُبًّا لِلهِ " آتا ہے يَوَذُونَ اللہ نہیں آتا۔مرد و عورت میں اللہ تعالیٰ نے مودت کا تعلق رکھ کر بتایا کہ ہم نے اس طرح ایک نفس کے دو ٹکڑے بنا کر ایک دوسرے کی طرف کشش پیدا کر دی ہے اور ہر ٹکڑا دوسرے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔اس طرح طبعا تکمیل انسانیت کی صورت پیدا ہوتی رہتی ہے ورنہ اگر اللہ تعالیٰ یہ مودت پیدا