فضائل القرآن — Page 167
فصائل القرآن نمبر ۳۰۰۰۰ 167 دنیا میں وابستہ ہیں اور روح اسی جسم کے ذریعہ سے کام کرتی ہے۔یہ بات عام لوگوں کی نظروں سے غائب ہے۔نادان سائنس والے جسم کی حرکات دیکھ کر کہتے ہیں کہ روح کوئی چیز نہیں اور روحانیات سے تعلق رکھنے کا دعویٰ کرنے والے علماء جو قرآن نہیں جانتے وہ کہتے ہیں کہ روح جسم سے علیحدہ چیز ہوتی ہے۔حالانکہ روح اور جسم ایک دوسرے سے بالکل پیوست ہیں۔جہاں اللہ تعالیٰ نے روح کو علوم اور عرفان کے خزانے دیئے ہیں وہاں ان خزانوں کے دریافت کی تڑپ اور ان کے استعمال کو جسم کی کوششوں کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔جب جسم ان کی تلاش اور مجٹس کرتا ہے تو وہ نکلتے آتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کوئی پاگل خدا رسیدہ نہیں ہو سکتا ورنہ اگر روح جسم سے الگ ہوتی اور اس کا جسم سے کوئی تعلق نہ ہوتا تو چاہئے تھا کہ پاگل کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہوتا کیونکہ پاگل کا دماغ خراب ہوتا ہے اور دماغ جسم سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ روح سے مگر ایسا نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ پاگلوں کو رسول کریم سی ای تم نے مرفوع القلم قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ ان کو دوبارہ عمل کا موقع دے گا۔اگر خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر نا صرف روح کا کام تھا جسم کا اس میں کوئی دخل نہ تھا تو وہ بلی تو کہہ ہی چکی تھی۔مگر حقیقت یہ ہے کہ جسم روح سے بالکل پیوستہ ہے۔جسم میں خدا تعالیٰ نے ایسی طاقتیں رکھی ہیں جو روحانیت کو بڑھانے والی ہیں۔رجولیت یا نسائیت سے متعلق قوتوں کا روح سے تعلق انہیں قوتوں میں سے جو انسان کو ابدیت کے حصول کے لئے دی گئی ہیں ایک اس کی ان غدودوں کا فعل ہے جو ر جولیت یا نسائیت سے متعلق ہیں۔یہ غدود جسم کے ہی حصے نہیں بلکہ روح سے بھی ان کا تعلق ہے ورنہ مرد کو خوجہ بننے سے روکا نہ جاتا۔پھر یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ انبیاء کے بھی بیوی بچے ہوتے ہیں کیونکہ یہ اعضاء روحانیت کے لئے ضروری ہیں۔بلکہ ان سے روحانیت مکمل ہوتی ہے۔رجولیت یا نسائیت کی اصل غرض در حقیقت بقا کی حسن پیدا کرنے کی خواہش ہے۔اس خواہش کے ماتحت رجولیت یا نسائیت کے غدود بقا کی دوسری صورت کا کام دیتے ہیں۔یعنی نسل کشی۔گویا نسلِ انسانی کے پیدا کرنے کا ذریعہ ان غدودوں کے نشوونما کا ایک ظہور ہے اور وہی طاقت جو روح کی بقا کا ذریعہ ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بقا کا ذریعہ بھی بنادیا اور یہ