فضائل القرآن

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 434

فضائل القرآن — Page 4

فصائل القرآن نمبر۔۔۔کیونکہ جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ کوئی چیز با موقع نازل ہوئی ہے اس وقت تک خدا تعالیٰ کی طرف وہ منسوب نہیں کی جاسکتی۔بہت لوگ کہتے ہیں کہ جب قرآن کریم نازل ہوا تو اس وقت لوگوں کی حالت خراب تھی۔مگر لوگوں کی حالت خراب ہونے کی وجہ سے ضروری نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب بھی نازل ہو۔دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُس وقت تشریف لائے جب لوگوں کی عملی حالت بالکل خراب ہو چکی تھی۔لیکن کیا آپ کوئی کتاب لائے۔پس یہ کہنا کہ لوگوں کی عادات خراب ہوگئی تھیں فسق و فجور پیدا ہو گیا تھا یہ اس بات کیلئے کافی نہیں کہ اس زمانہ میں قرآن کریم کی بھی ضرورت تھی۔یا یہ کہ عربوں میں بدرسوم پیدا ہوگئی تھیں۔بیٹیوں کو مار ڈالتے تھے۔سوتیلی ماؤں سے شادی کر لیتے تھے۔اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوگا کہ عربوں کے لئے ایک کتاب کی ضرورت تھی۔یہ ثابت نہیں ہوگا کہ ساری دنیا کے لئے ضرورت تھی۔جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت بنی اسرائیل کی حالت سخت خراب تھی۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ حضرت موسیٰ یا حضرت عیسی علیہما السلام ساری دنیا کے لئے آئے تھے۔ہمیں جو چیز ثابت کرنی چاہئے وہ یہ ہے کہ اُس زمانہ میں تمام مذہبی کتب میں ایسا بگاڑ پیدا ہو گیا تھا کہ وہ اپنی ذات میں دنیا کو تسلی دینے کے لئے ناکافی تھیں۔پس قرآن کریم کے نازل ہونے کی ضرورت کو ثابت کرنے کے لئے پہلی کتب میں بگاڑ ثابت کرنا ضروری ہے۔قرآن کریم کی وحی کس طرح نازل ہوئی (۲) دوسرے اس بات پر روشنی ڈالنا ضروری ہے کہ قرآن کریم کی وحی کس طرح نازل ہوئی؟ کیونکہ کسی وحی کے نزول کے طریق سے بھی بہت کچھ اس کی صداقت کا پتہ لگ سکتا ہے۔مثلاً اس بات پر بحث کرتے ہوئے یہ سوال سامنے آجائے گا کہ جس انسان پر یہ وحی نازل ہوئی کیا اس کے نازل ہونے کے وقت کی کیفیت سے یہ تو ظاہر نہیں ہوتا کہ اس کا نَعُوذُ باللہ دماغ خراب تھا۔بیسیوں لوگ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں ہمیں یہ یہ الہام ہوا۔وہ اپنی طرف سے جھوٹ نہیں بول رہے ہوتے۔مگر ان کا دماغ خراب ہوتا ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے آکر کہا کہ مجھے بھی الہام ہوتا ہے۔آپ اس کی بات سن کر خاموش رہے اس 4